35 واں نیشنل گیمز؛ پاکستان آرمی ٹائٹل کا دفاع کرنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
کراچی میں اختتام پذیر ہونے والے 35ویں نیشنل گیمزمیں دفاعی چیمپئن پاکستان آرمی نے میڈل ٹیبل پر واضح سبقت حاصل کر کے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا۔
نیشنل گیمز میں 1968 سے ناقابلِ شکست پاکستان آرمی نے200 گولڈ میڈلز کے ساتھ سب سے آگے رہتے ہوئے مسلسل 31ویں مرتبہ قائد اعظم ٹرافی اپنے نام کی۔
پاکستان آرمی نے8 روز تک جاری رہنے والے 35 ویں نیشنل گیمز میں مجموعی طور پر میڈلز کی ٹرپل سینچری اور گولڈ میڈل کی ڈبل سینچری مکمل کی۔پاکستان آرمی کے 358 میڈلز میں 200 گولڈ 97 سلور اور56 براز میڈل شامل رہے۔
پاکستان آرمی کی روایتی حریف پاکستان واپڈا نے مجموعی طور پر 232 میڈلز حاصل کیے جس میں 85 گولڈ، 73 سلور اور 74 برانز میڈل شامل تھے۔پاکستان نیوی نے سیلنگ اور شوٹنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے 110 میڈلز اپنے نام کیے جس میں 36 گولڈ، 39 سلور اور 35 برانز میڈل شامل ہیں۔
126 میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے پنجاب کا صوبوں میں پہلا نمبر رہا۔پنجاب نے 16 گولڈ، 38 سلور اور 72 برانز میڈلز پر ہاتھ صاف کیا۔ایچ ای سی نے 14 گولڈ 39 سلور اور 65 برانزمیڈلز کے ساتھ میڈلز کی مجموعی تعداد 118 کرتے ہوئے پانچویں پوزیشن پائی۔ میزبان سندھ نے 11 گولڈ، 26سلور اور 59برانز میڈل سے تقویت پاکر مجموعی طور پر 96 میڈلز کے ساتھ چھٹی اور صوبوں میں دوسری پوزیشن اپنے نام کی۔
ساتویں پوزیشن پانے والی پی اے ایف کے 53میڈلز میں 10 گولڈ ،16 سلور اور 27 برانز میڈل شامل تھے۔خیبر پختونخواہ نے 69 میڈلز کے ساتھ آٹھویں پوزیشن پر قبضہ جمایا جن میں پانچ گولڈ، 18سلور اور 46 برانز میڈل شامل تھے۔
بلوچستان نے مجموعی طور پر 48 میڈل جیت کر نویں پوزیشن حاصل کی۔ ان میں چار گولڈ، 14سلور اور 30 برانز میڈل شامل تھے۔
نیشنل گیمز کی سابق فاتح پاکستان ریلویز نے 29 میڈلز کے ساتھ 10 ویں پوزیشن حاصل کی جن میں تین گولڈ، چار سلور اور 22 برانز میڈل شامل رہے۔
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد نے دو گولڈ، پانچ سلور اور 11 برانز میڈلز کے ساتھ 18 میڈلز اپنے نام کیے اور 11ویں نمبر پر رہا۔
12ویں پوزیشن پولیس کے ہاتھ لگی جس نے ایک گولڈ،دو سلور اور 25 برانز میڈل حاصل کیے۔ پولیس کے مجموعی میڈلز کی تعداد 28 رہی۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کوئی گولڈ اور سلور میڈل اپنے نام نہیں کر سکے۔ تاہم سات، سات برانز میڈل جیت کر بالترتیب 13ویں اور 14ویں پوزیشن پانے میں کامیاب رہے۔
اس طرح گیمز میں شریک تمام 14 دستوں میں کوئی بھی خالی ہاتھ نہ رہا اور ہر دستے نے میڈلز اپنے نام کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میڈلز کے ساتھ پاکستان آرمی اپنے نام کی نیشنل گیمز سلور اور حاصل کی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔