کراچی میں 35ویں نیشنل گیمز کا اختتام، پاکستان آرمی نے سبقت حاصل کی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
کراچی میں 6 تا 13 دسمبر تک جاری رہنے والے 35ویں نیشنل گیمز کا اختتام پاکستان آرمی کی شاندار کارکردگی کے ساتھ ہوا۔ اختتامی تقریب نیشنل بینک اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔
تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے بھی شرکت کی۔ بلاول بھٹو نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سندھی اجرک اور روایتی ٹوپی پیش کی۔
میدان میں پاکستان آرمی نے مجموعی طور پر 353 میڈلز جیت کر قائداعظم ٹرافی اپنے نام کی، جب کہ واپڈا نے 232 اور نیو ی نے 110 میڈلز کے ساتھ دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
گیمز میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو بھی خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ اختتامی تقریب میں نیشنل گیمز کا جھنڈا پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن کے حوالے کیا گیا، جہاں اگلے قومی گیمز منعقد ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔