لگتا ہے بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کریگا، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف : فائل فوٹو
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا, ہمیں بھارت کی کارروائی سے متعلق پتا ہے، ہم مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کچھ ایسے شواہد موجود ہیں کہ بھارت اس بار سمندر کے راستے سے بھی کوئی کارروائی کر سکتا ہے، بلوچستان میں جو دہشتگرد ایکٹیو ہیں ان کو بھی افغانستان میں ٹھکانے مہیا کیے گئے، افغان طالبان بی ایل اے اور خوارجیوں کے ٹھکانوں کو بارڈر ایریا سے رہائشی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں، بارڈر ایریا سے رہائشی علاقوں میں منتقلی کا مقصد دہشتگرد کو ہیومن شیلڈ فراہم کرنا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکا کو اپنی سر زمین سے افغانستان پر حملوں کی کوئی اجازت نہیں دی، ایسی خبریں افغانستان کا پروپیگنڈا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک افغانستان تعلقات کی نوعیت پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان سے متعلق ثبوت سینئر صحافیوں کے ساتھ شیئر کیے۔
افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی میں افغان فوج کے سپاہی بھی ملوثانہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی میں افغان فوج کے سپاہی بھی ملوث ہیں، تین چار ماہ میں افغانستان سے دراندازی کے دوران دہشتگردوں کو مارا گیا، مارے گئے ان دہشتگردوں میں 60 فیصد افغان باشندے شامل تھے، ان کارروائیوں میں افغان فوج کے سپاہی بھی مارے گئے، خارجی اپنے ٹھکانے سرحدی علاقوں سے رہائشی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر ایک فرد کے پی میں دہشتگردی لایا، عوام کو ایسے شخص پر نہیں چھوڑ سکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر ڈی جی آئی ایس پی آر نے خارجیوں کے سہولت کاروں کو تین آپشن دے دیےلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دوحہ میں طے ہوا تھا کہ لویا جرگے کا انعقاد کیا جائے گا، افغان طالبان کے ساتھ ہم اب بھی مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں، مذاکرات سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی، افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات کا ایجنڈا تھا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 6200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیےگئے، آپریشنز کے دوران 1667 خارجی دہشت گرد مارے گئے، ہلاک دہشت گردوں میں 128 افغان باشندے بھی تھے۔
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا نارکو اکنامی سے تعلقڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا نارکو اکنامی سے تعلق ہے، تیراہ میں آپریشن سے یہاں افیون کی فصل تباہ کی گئی، وادی تیراہ میں ڈرونز، اے این ایف اور ایف سی کے ذریعے پوست تلف کی گئی۔
خیبر پختونخوا میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کاشت کی گئی ہے، فی ایکڑ پوست پر منافع 18 لاکھ سے 32 لاکھ روپے بتایا جاتا ہے، مقامی سیاستدان اور لوگ بھی پوست کی کاشت میں ملوث ہیں، افغان طالبان اس لیے ان کو تحفظ دیتے ہیں کہ یہ پوست افغانستان جاتی ہے، افغانستان میں پھر اس پوست سے آئس اور دیگر منیشات بنائی جاتی ہیں، ایران سے ڈیزل کی اسمگلنگ کو تقریباً ختم کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا جوابوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں پبلک سرونٹ ہوں کسی پر الزام نہیں لگا سکتا، سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، بس اتنا ہی کہوں گا۔
امریکی ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں حملے کا الزام مستردڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کو افغانستان پر حملے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دی، امریکی ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں حملے کا الزام جھوٹا ہے، نہ ہمارا امریکا کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہے کہ امریکا پاکستان سے ڈرون کے ذریعے افغانستان میں کارروائی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے افغانستان میں خیبر پختونخوا افغانستان سے میں افغان نے کہا کہ کے ذریعے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک