9 مئی و توشہ خانہ کیسز؛ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں ضمانت 7 اکتوبر تک برقرار رکھی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو 9 مئی واقعات، اقدامِ قتل اور احتجاج کے مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع دی جب کہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں جعلی رسیدوں کے الزام پر عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی گئی۔
سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر آج بھی فیصلہ نہ سنایا جاسکا جب کہ بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں پر دلائل مکمل نہیں ہوسکے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر اکٹھا فیصلہ سنایا جائے گا۔
سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ایڈووکیٹ خالد یوسف چوہدری پیش ہوئے۔ ان کے خلاف تھانہ ترنول، کراچی کمپنی، کوہسار سمیت دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی بی بی کی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔