اسلام کیخلاف ہرزہ سرائی؛ کولکتہ کے اردو سیمینار سے جاوید اختر کی چھٹی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کی اردو اکیڈمی نے مذہبی جماعتوں کے اعتراض پر نہ صرف جاوید اختر کی چھٹی کردی بلکہ اپنےادبی پروگرام کو ہی ملتوی کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مذہبی جماعتوں نے نغمہ نگار جاوید اختر کے اعلانیہ مذہب سے بیرازی کے اظہار پر احتجاج کرتے ہوئے ان کی متوقع آمد پر احتجاج کیا تھا۔
مذۃبی جماعتوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جاوید اختر لادینی خیالات کے مالک ہیں اور اسلام پر تنقید سے باز نہیں آتے۔ ان کی آمد سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوسکتے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند سمیت کئی مذہبی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جاوید اختر کے بیانات مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے خلاف ہیں اس لیے ان کی میزبانی ناقابلِ قبول ہے۔
تاہم ان تںظیموں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ جاوید اختر کو مدعو نہ کرنے کی دھمکی نہیں دی بلکہ صرف اختلافِ رائے ظاہر کیا تھا۔
خیال رہے کہ اس ادبی پروگرام میں جاوید اختر کو "ہندی فلموں میں اردو کا کردار” کے موضوع پر گفتگو اور ایک مشاعرے کی صدارت بھی کرنی تھی۔
تاہم مذہبی جماعتوں کے احتجاج پر اردو اکیڈمی کی سیکریٹری نزہت زینب نے اعلان کیا کہ نامساعد حالات کے باعث یہ پروگرام ملتوی کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ باضابطہ طور پر پروگرام کی ملتوی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی مگر ادبی حلقے اسے تنازع کے خدشات سے جوڑ رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق قریبی حلقوں کے امکان ظاہر کیا ہے کہ پروگرام کی نئی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ایجنڈے میں تبدیلی ہوگی جس میں ممکنہ طور پر جاوید اختر کا نام نہیں ہوگا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جاوید اختر کیا تھا
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔