چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، ماحولیاتی بہتری اور کاربن کریڈٹ پروگرام سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، ماحولیاتی بہتری اور کاربن کریڈٹ پروگرام سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت منگل کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماحولیاتی بہتری اور کاربن کریڈٹ پروگرام سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، ڈی جی انوائرمنٹ سمیت دیگر سنئیر افسران نے شرکت کی جبکہ سندھ حکومت کے سابق چیف کنزرویٹر فاریسٹ سندھ حیدر رضا اور انکی ٹیم نے بذریعہ زوم لنک اجلاس میں شرکت کی۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے ماحولیاتی معیار کو بہتر بنانے کیلئے جامع منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سی ڈی اے کاربن کریڈٹ جیسے عالمی ماحولیاتی فریم ورک سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ کاربن کریڈٹ کے حصول کیلئے سی ڈی اے متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں بنجر زمین کو سرسبز علاقوں میں تبدیل کرنا، گرڈینیا حب نرسری کی اپ گریڈیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کی بہتری، اور 160 الیکٹرک بسوں کا منصوبہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی معیار کے مطابق دارالحکومت کو پائیدار اور ماحول دوست شہر بنانے میں مدد ملے گی۔چئیرمین سی ڈی اے نے سندھ فاریسٹ ٹیم کے تجربات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے، سندھ حکومت کی ماحولیاتی شعبے میں مہارت اور تجربے سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں چیف کنزرویٹر فاریسٹ سندھ کاربن کریڈٹ پروگرام کی پری ڈاکیومینٹیشن کے مرحلے میں تکنیکی معاونت فراہم کرے تاکہ منصوبہ بندی کے مراحل کو تیز اور موثر بنایا جا سکے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کیلئے صوبوں اور وفاقی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر کاربن کریڈٹ پروگرام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے مزید کہا کہ دونوں ادارے قریبی رابطوں اور موثر کوارڈینیشن کو یقینی بنائیں اور اس سلسلہ میں تکنیکی ٹیموں کے درمیان ورکنگ میکانزم ترتیب دیا جائے گا تاکہ کاربن کریڈٹ پروگرام میں عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جاسکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پارک روڈ پر قائم ماڈل نرسری کا دورہ، مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پارک روڈ پر قائم ماڈل نرسری کا دورہ، مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اپنی سلامتی اور خودمختاری کو نشانہ بنانیوالے کسی اقدام کو قبول نہیں کرینگے، قطر کا اسرائیلی حملے پر ردعمل اسرائیل کا قطر میں فضائی حملہ، حماس رہنما خلیل الحیہ اور ظہیر جبرین شہید چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، نئے سیکٹر میں ڈویلپمنٹ پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ بھارتی کپتان کو محسن نقوی، سلمان آغا سے ہاتھ ملانا مہنگا پڑگیا، غدار قرار دیدیا گیا میڈیا نمائندگان پر تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کیخلاف مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات لگانے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں