چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، نئے سیکٹر میں ڈویلپمنٹ پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، نئے سیکٹر میں ڈویلپمنٹ پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت منگل کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر انجنئیرنگ سید نفاست رضا، ممبر پلاننگ اینڈ ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن، ڈی سی اسلام آباد، ڈی جی ورکس سمیت دیگر سنئیر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلام آباد کے نئے سیکٹر میں ڈویلپمنٹ پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیکٹر سی 14 کے روڈ انفراسٹرکچر کا بیس ورک رواں ماہ مکمل کر لیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکٹرسی 14 میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے ضروری فنڈز جاری کردئیے گئے ہیں اور بروقت ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکٹر 14میں ہارٹیکلچر اور ماحول دوست شجرکاری کو فروع دینے کیلئے بھی اقدامات کئے جائے گے اس ضمن میں گرین بیلٹس سمیت دیگر جگہوں پر دیدہ زیب لینڈ سکیپنگ اور ماحول دوست شجرکاری کی جائے گی۔ اسی طرح روشنی کے انتظامات کے حوالے سے سٹریٹ لائٹس کے ٹینڈرز کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے۔ اجلاس میں سیکٹر C-15 کے ترقیاتی کاموں میں ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکٹر C-15 میں ڈرینیج اور سیوریج کا کام جاری تیزی سے ہے جسکو جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا۔
اجلاس کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیکٹر C-16 میں روڈ انفراسٹرکچر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے جسکو جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکٹر C-15 اور سیکٹر C-16 میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جارہا ہے۔اجلاس میں اسلام آباد کے دیگر سیکٹروں میں جاری ترقیاتی کاموں میں ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے اور شہریوں کو معیاری رہائشی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر رہائشی ضروریات کو پورا کرنا ہے تاکہ اسلام آباد کے شہریوں کو ان سیکٹرز میں تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ اسلام آباد کو ایک جدید اور مثالی شہر بنایا جاسکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی کپتان کو محسن نقوی، سلمان آغا سے ہاتھ ملانا مہنگا پڑگیا، غدار قرار دیدیا گیا بھارتی کپتان کو محسن نقوی، سلمان آغا سے ہاتھ ملانا مہنگا پڑگیا، غدار قرار دیدیا گیا میڈیا نمائندگان پر تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کیخلاف مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات لگانے کا فیصلہ خیبرپختونخوا میں 8ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگرد موجود ہیں، سرکاری حکام کا انکشاف عمران خان صرف انتشار چاہتا ہے، تحریک انصاف کا سیاسی کیریئرختم ہوچکاہے، راناثنااللہ دریائے چناب میں ملتان کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار، شہرکو بچانے کیلئے شیرشاہ بند کو توڑنے کا فیصلہ وزیراعظم کا ٹیکس دہندگان کو کاروبار دوست ماحول دینے اور ٹیکس چوروں کو پکڑنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔