جسٹس محسن اختر کیانی کی نیب پر کڑی تنقید، سی ڈی اے حکام پر بھی برہمی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد کے علاقے شاہ اللہ دتہ اور سیکٹر سی 13 کے متاثرین کی درخواستوں پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے کے مجسٹریٹ پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے کردار پر کڑی تنقید کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نیب نے پہلے ہی بیڑا غرق کردیا ہے، سیاسی انتقام سے ہٹ کر بھی نیب کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے کہنے پر فیصلے کرنا قانون کے منافی ہے، اس لیے افسران کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مدد کریں اور کسی کے دباؤ میں نہ آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی فل کورٹ میٹنگ: اسٹیبلشمنٹ سروس رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز منظور
ان کا کہنا تھا کہ فائدہ لیتے وقت تو کسی کو ڈر نہیں لگتا لیکن اپنا کام کرتے ہوئے سب کو ڈر لگتا ہے۔ غلطی کی سزا نہیں ہوتی، بدنیتی کی سزا ضرور ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سول رائٹس کے ساتھ ساتھ نیب اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
نیب قوانین میں ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس کیانی نے کہا کہ ان ترامیم کے بعد زیادہ تر پرانے کیسز ختم ہو گئے، اسلام آباد میں 106 کیسز تھے جو اب صرف 3 سے 4 ہی رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈرنا چھوڑ دیں اور لوگوں کے مسائل حل کریں، کسی کو نیب نہیں اٹھائے گا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کا حکم
سی ڈی اے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر نے ایک ہی افسر کو برقرار رکھا۔
’حالانکہ بوجھ کم کرنے کے لیے ہرسیکٹر میں ایک ڈپٹی کمشنر ہونا چاہیے، جوعدالتی حکم نہیں مانتا کیا وہ 5 ڈی سی رکھ سکتا ہے۔‘
عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے حکام شاہ اللہ دتہ اور سیکٹر سی 13 کے متاثرین کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس محسن اختر کیانی چیئرمین سی ڈی اے چیف کمشنر سی ڈی اے سیکٹر سی 13 شاہ اللہ دتہ قومی احتساب بیورو نیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس محسن اختر کیانی چیئرمین سی ڈی اے چیف کمشنر سی ڈی اے سیکٹر سی 13 شاہ اللہ دتہ قومی احتساب بیورو جسٹس محسن اختر کیانی باد ہائیکورٹ اسلام ا باد نے کہا کہ کیانی نے سی ڈی اے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند