حکمران سیلاب کی تباہ کاریوں کو قدرتی آفت قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
گجرات،پھالیہ:۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر شدید مہنگائی، غذائی قلت اور زرعی بحران پیدا ہونے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے خورونوش، کھاد، بیج اور زرعی ادویات پر سبسڈی کا اعلان کیا جائے۔
گجرات اور منڈی بہاﺅالدین کی تحصیل پھالیہ میں سیلاب متاثرین، جماعت اسلامی و الخدمت کے رضاکاران اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کے پیسوں سے ذاتی تشہیر بند ہونی چاہیے ، قوم اس لیے ٹیکس دیتی ہے کہ انہیں بنیادی ضروریات کی چیزیں کنٹرول ریٹس پر دستیاب ہوں اور حکومت غذائی قلت کے تدارک کے لیے بروقت اور فوری اقدامات اٹھائے۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، امیر ضلع گجرات انصر محمود ایڈوکیٹ، الخدمت شمالی پنجاب کے صدر رضوان احمد، امیر ضلع سیف اللہ ساہی، امتیاز شکور بٹ ضلعی صدر الخدمت اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کے شمال اور مشرق میں تباہی کے بعد اب سیلابی ریلے جنوبی پنجاب اور سندھ کا رُخ کررہے ہیں، ماحولیاتی تباہی سے بچاﺅ کے لیے حکومت نے کوئی واضح منصوبہ بندی کی اور نہ ہی عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ موثر طریقے سے پیش کیا ہے، قبضہ مافیا کے ساتھ درخت کاٹنے والا مافیا بھی سرگرم ہے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ سیلاب سے تباہی بھارتی آبی جارحیت کے ساتھ ہمارے حکمرانوں کی نالائقیوں کا نتیجہ ہے۔ گجرات شہر پانی میں ڈوب گیا اور یہاں کشتیاں چل رہی ہیں۔ سیلاب متاثرین کی حالت زار دیکھ کر انتہائی تکلیف ہوئی، متاثرین کو یقین دلاتے ہیں کہ جماعت اسلامی ان کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑے گی، یہ سیاست یا الیکشن کے لیے نہیں، انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دریاﺅں کی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے اور ہاﺅسنگ کالونیز بنانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں وہ مافیا قرار دیا جنہیں ہر حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مگرمچھوں سے جان چھڑانا ہوگی، یہ ہر حکومت بھلے ساڑھے تین برس یا پنتیس برس سے مسلط حکمرانوں کی ہو، مافیاز سب کا اے ٹی ایم بن کر ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکمران سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کو محض قدرتی آفت کا نام دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے ، یہ تباہی ظالموں کے ظلم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا سیلاب سے کسان سڑک پر آگیا ہے، لوگ دربدر ہیں، جبکہ حکمران طبقات فوٹو سیشنز میں مصروف ہیں، پانی کی بوتل سے لے کر بنیادی مرکز صحت تک ہر جگہ اپنا نام لکھوایا جارہا ہے، حکمران ذاتی تشہیر کی بجائے قوم کی حالت زار پر توجہ دیں۔
امیر جماعت اسلامی نے اربن فلڈنگ اور خصوصی طور پر بڑے شہروں کی صورتحال پر حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا چالیس سال سے حکومت کرنے والوں کو نہیں پتا سیوریج کا نظام تباہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ سترہ سال مسلسل حکمرانی کے بعد بلاول بھٹو کو پتا چلا کہ کراچی کے نلکوں میں پانی نہیں آتا۔ بیس ارب اس ایم کیو ایم کو دے دیے گئے جنہوں نے قومی انتخابات میں بیس بوتھ بھی نہیں جیتے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں خاندانوں کی اجارہ داری کا نظام اسٹیبلشمنٹ مسلط کرتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام اور خصوصی طور پر نوجوان اب حکمرانوں کی چالیں سمجھنے لگے ہیں، انہیں پتا چل چکا ہے کہ کون سی جماعت مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ عوام بڑی تیاری کرلیں، 21نومبر کو مینار پاکستان پر تاریخی اور عظیم الشان اجتماع کرنے جارہے ہیں جو نظام کی تبدیلی کی بڑی اور منظم تحریک کا آغاز ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔