نظام الدین بٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر جیسی متنازع اور تنازعات سے دوچار ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر دونوں کی جانب سے ہوئی ہیں اور عالمی سطح پر اسکا سیاسی استعمال کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر حکومت نے اسمبلی میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ’’لیجسلیٹو فورم‘‘ کے قیام کے بل مسترد کر دیا۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین ٹیریٹری کی اسمبلی پارلیمنٹ کے قوانین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی۔ یہ بل کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ نے پیش کیا تھا جنہوں نے استدلال دیا کہ ان کا مجوزہ فورم قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) کی جگہ لینے کے بجائے اسے معاونت فراہم کرے گا۔ نظام الدین بٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر جیسی متنازع اور تنازعات سے دوچار ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر دونوں کی جانب سے ہوئی ہیں اور عالمی سطح پر اس کا سیاسی استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حقیقی ذمہ داروں کی شناخت میں منصفانہ کردار ادا نہیں کر سکے۔ اس فورم کا مقصد متاثرین کو انصاف اور انسانی حقوق اداروں کو مدد فراہم کرنا ہے۔ جموں و کشمیر وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی دفعہ 35 کے تحت، یونین ٹیریٹری کی اسمبلی کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو پارلیمنٹ کے کسی قانون سے ٹکرائے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ریاست میں انسانی حقوق کمیشن موجود تھا، لیکن اب چونکہ یونین ٹیریٹری ہے، اس طرح کے فورم کا قیام قانونی طور پر ممکن نہیں۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ اگر حالات بدلیں تو ایسے فورم کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی۔

اس پر نظام الدین بٹ نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ کے "پابند ماحول" کو سمجھتے ہیں، مگر یہ اسمبلی کی بے بسی کی علامت ہے۔ ایم ایل اے بانڈی پورہ نے کہا کہ تاریخ اسے ہماری مجبوری کے طور پر یاد رکھے گی۔ میں دباؤ میں آ کر یہ بل واپس لیتا ہوں۔ قابل ذکر ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے قبل جموں و کشمیر کی ریاست کا اپنا اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن (SHRC) موجود تھا، جو 1990ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے سینکڑوں مقدمات کی سماعت کی تھی اور کئی متاثرین کے حق میں معاوضے کے احکامات جاری کئے تھے۔ تاہم اگست 2019ء کے بعد جب ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو کمیشن بھی تحلیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد متعدد زیر سماعت مقدمات یا تو قومی انسانی حقوق کمیشن کو منتقل کئے گئے یا غیر حتمی حالت میں رہ گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نظام الدین بٹ نے نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع