انہوں نے کہا کہ 1947ء میں بھارت کی کھلی فوجی جارحیت تنازعہ کشمیر کی بنیادی وجہ بنی جس کے باعث سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام خطرے سے دوچار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آگے آئے اور مظلوم کشمیر عوام کو اپنے مادر وطن پر بھارت کا دہائیوں پرانا قبضہ ختم کرانے میں ان کی مدد کرے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت گزشتہ 78 برسوں سے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ہر سال دنیا بھر میں 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کیا جائے اور مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں غلام محمد خان سوپوری، ایڈوکیٹ ارشد اقبال، حفیظہ فہمیدہ، مولانا مصعب ندوی، تحریک حریت جموں و کشمیر، مسلم کانفرنس اور پیپلز لیگ کے نمائندوں نے سرینگر میں اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کو فوجی طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا۔

دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی، محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، الطاف حسین وانی، شیخ عبدالمتین، شیخ یعقوب، سید فیض نقشبندی، سید یوسف نسیم، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، مشتاق احمد، سید گلشن اقبال، زاہد اشرف، زاہد صفی، الطاف احمد بٹ، اعجاز رحمانی، حاجی سلطان بٹ، شیخ ماجد، امتیاز وانی، عدیل وانی اور دیگر نے اپنے بیانات میں 27 اکتوبر کو کشمیر کی جدید تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء میں آج ہی کے دن بھارت کی کھلی فوجی جارحیت تنازعہ کشمیر کی بنیادی وجہ بنی جس کے باعث سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام خطرے سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جن کی توثیق اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو سمیت بھارت کے نمائندوں نے بھی کی تھی، واضح طور پر جموں و کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ حریت رہنمائوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔انہوں نے کہا وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے طویل فوجی قبضے کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کل جماعتی حریت کانفرنس انہوں نے کہا کہ بھارت کے

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟