انسانی وجود میں تخلیق کی بنیادیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بڑا تجربہ تخلیق کا سرچشمہ ہے، خواہ وہ المیہ ہو یا مسرت انگیز
انسانی وجود میں تخلیق کا سرچشمہ کہاں ہے، اور تخلیقی عمل کن بنیادوں پر استوار ہوتا ہے؟ یہ صدیوں سے تخلیقی زندگی کا بنیادی سوال ہے، اور ابھی تک اس کا کوئی حتمی جواب ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تخلیقی عمل ایک گہرا باطنی تجربہ ہے۔ اتنا گہرا باطنی تجربہ کہ خود تخلیق کاروں کو بھی پوری طرح اس کا شعور نہیں ہوتا۔ چنانچہ شاعروں، ادیبوں اور دیگر تخلیقی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے تخلیقی عمل کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کی حیثیت ایک قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اس صورتِ حال سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ انسانی زندگی میں تخلیقی عمل کی اہمیت اتنی بنیادی ہے کہ ہمیں تخلیقی عمل کی بنیادوں کا سراغ لگانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنی چاہئیں۔ اس سلسلے میں بعض بڑے تخلیق کاروں کی تخلیقی واردات ہماری رہنمائی کرسکتی ہے۔ مثلاً میر تقی میرؔ کا تخلیقی تجربہ۔
میرؔ کی زندگی رنج و الم کی داستان ہے۔ میرؔ ابھی بچے ہی تھے کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ میرؔ کے والد کو عدم موجود پاکر ان کے عزیزوں نے ان کی جائداد پر قبضہ کرلیا اور انہیں انتہائی تنگ دستی کی زندگی بسر کرنی پڑی۔ میرؔ کو محبت میں ناکامی کا شدید تجربہ ہوا اور ان پر جنون کی کیفیت طاری ہوگئی، یہاں تک کہ انہیں چاند میں اپنے محبوب کی صورت نظر آنے لگی۔ وہ کئی کئی دن تک ایک کمرے میں بند رہتے۔ میرؔ کی شاعرانہ عظمت نے انہیں کئی نوابوں کے قریب کیا اور ان کی معاشی مشکل کا حل برآمد ہوتا نظر آیا۔ لیکن میرؔ کی تنک مزاجی اور خودداری بے پناہ تھی، چنانچہ وہ کسی کے، اور کوئی اُن کے ساتھ دیر تک نہ رہ سکا۔ نتیجہ یہ کہ غم کا شدید تجربہ میرؔ کی پوری شخصیت پر چھا گیا۔ غم کے اس تجربے میں سب سے بڑا غم محبت میں ناکامی کا غم تھا۔ میرؔ کو اس تجربے کا پورا شعور تھا، چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے:
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
اسی طرح انہوں نے کہا ہے:
درہمی دہر کی ہے ساری مرے دیواں میں
سیر کر تُو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
لیکن میرؔ کی تہذیبی شخصیت بہت مضبوط تھی، چنانچہ انہوں نے اپنے غم کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے اپنی طاقت بنالیا۔ انہوں نے شدید غم اور اس سے پیدا ہونے والی حساسیت کو اپنا ’’تناظر‘‘ بنالیا۔ اس تناظر سے انہوں نے پوری زندگی اور کائنات کو دیکھا بھی اور سمجھا بھی۔ چنانچہ میرؔ نے کہا ہے:
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
لیکن میرؔ نے ناکامیوں سے ’’کام‘‘ کیا کیا لیے ہیں؟ اس کی جھلکیاں خود میرؔ کی شاعری میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
…٭…
وجہِ بیگانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
خوش ہیں دیوانگیِ میرؔ سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
…٭…
آنکھ ہو تو آئنہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ
…٭…
وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
…٭…
تمنائے دل کے لیے جان دی
سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
…٭…
محبت نے کاڑھا ہے ظلمت سے نور
نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
ان شعروں میں معنی کی فراوانی ہے، فکر کی سطح بلند ہے، تناظر آفاقی ہے، زبان و بیان غیر معمولی ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ہر شعر پر ایک مضمون لکھا جاسکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ میرؔ کے یہاں ایسے سیکڑوں شعر موجود ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ میرؔ نے چھ ضخیم دیوان تخلیق کیے ہیں جنہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ میرؔ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں سے شاعری کا دریائے نیل یا شاعری کی گنگا برآمد ہوئی ہے۔ میرؔ کو خود بھی اس بات کا احساس تھا، چنانچہ انہوں نے کہا ہے ؎
میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
طبیعت کی یہ روانی اس بڑے تجربے کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی جس نے پوری زندگی اور ساری کائنات کو میرؔ کی شاعری کا مواد بنادیا۔ میرؔ کی شاعری سہلِ ممتنع میں ہے۔ لیکن آسان کہنے سے زیادہ مشکل کام اور کوئی نہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو میرؔ کی شاعری کا یہ کمال بھی اُن کے بڑے تجربے کی دین ہے۔ انسان کا تجربہ بڑا ہو تو احساس کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ عام الفاظ بھی بڑے معنی کا ظرف بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر تجربہ بڑا اور گہرا نہ ہو بلکہ صرف بڑے تجربے کا خیال موجود ہو تو انسان پھر چھوٹے معنی کو بڑے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اردو میں جوش ملیح آبادی کی شخصیت اور شاعری اس کی بڑی مثال ہے۔
قرۃ العین حیدر اردو کی سب سے بڑی ناول نگار ہیں اور انہوں نے ایک دو نہیں، پانچ ناول لکھے ہیں۔ لیکن دراصل انہوں نے پانچ نہیں ایک ہی ناول لکھا ہے، اور ان کے پانچ ناول دراصل ان کے ایک ہی ناول کے پانچ ابواب ہیں۔ بلاشبہ یہ ناول ایک دوسرے سے مختلف پس منظر کو سامنے لاتے ہیں مگر ان تمام ناولوں کا ’’ہیرو‘‘ ایک ہے… یعنی ’’وقت‘‘۔ قرۃ العین حیدر نے اچھا خاصا فلسفہ پڑھ رکھا ہے مگر ان کے یہاں وقت کا تصور فلسفیانہ نہیں المناک ہے۔ ان کے ناولوں میں ہر طرف وقت کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ دنیا کے منظرنامے پر بڑی بڑی شخصیتیں طلوع ہوتی ہیں، بڑی بڑی تحریکیں جنم لیتی ہیں، بڑے بڑے خیالات ابھرتے ہیں، بڑی بڑی تہذیبیں اپنی بہاریں دکھاتی ہیں، لیکن وقت ہر چیز کو نگل جاتا ہے۔ قرۃ العین حیدر، اقبال سے بہت متاثر ہیں، مگر اقبال کی شاعری میں کائنات کی سب سے بڑی قوت وقت نہیں، عشق ہے جو وقت پر بھی غالب آجاتا ہے۔ لیکن قرۃ العین کے ناولوں میں وقت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو وقت کا یہی شدید المیہ احساس قرۃ العین حیدر کی شخصیت میں تخلیق کا سرچشمہ ہے اور ان کی پوری شخصیت اس کی گرفت میں محسوس ہوتی ہے۔ وقت کے اس شدید المیہ احساس سے اُن کے ناولوں کے موضوعات جنم لیتے ہیں۔ یہیں سے ان کے ناولوں کی بے مثال تفصیلات جنم لیتی ہیں۔ یہیں سے ان کا وہ اسلوب پیدا ہوتا ہے جو نثر میں شاعری کی لذت پیدا کردیتا ہے، جو ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’گردشِ رنگِ چمن‘‘ میں اپنے عروج پر ہے۔
وین گوف مغرب میں مصوری کے بڑے ناموں میں سے ایک ہے۔ بعض لوگ اسے مصوری میں تاثراتی اسکول کا بانی بھی کہتے ہیں۔ اگر ہمیں صحیح یاد ہے تو اس نے ابتدا میں کان کنی بھی کی، وہ کچھ عرصے کے لیے پادری کے روپ میں بھی سامنے آیا، لیکن اس کی شخصیت پر ابتدا ہی سے فطری مظاہر کے حسن و جمال کا شدید غلبہ تھا۔ اس غلبے نے اسے خودبخود مصوری کی جانب مائل کردیا، یہاں تک کہ اس کی شخصیت منقلب یا Transform ہوکر ایک مصور کی شخصیت بن گئی۔ اس کے مزاج میں بلا کی شدت تھی، وہ جس سے تعلق قائم کرتا، شدت کے ساتھ کرتا۔ اور اکثر لوگ اس کی شدت سے ڈر جاتے اور اس سے دور ہوجاتے۔ چنانچہ اس کی زندگی تقریباً ایک تنہا انسان کی زندگی تھی۔ اس کی معاشی حالت آخری وقت تک خراب رہی۔ اگر اس کا بھائی مسلسل اس کی مالی مدد نہ کرتا تو وہ بھوکا مر جاتا اور اس کے پاس کینوس، رنگ اور برش خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوتے۔ وین گوف فطری مظاہر کو دیکھتا تو اس پر دیوانگی طاری ہوجاتی، اور وہ بلا رکے 24 گھنٹے پینٹنگز بناتا رہتا۔ اسے اس کے زمانے نے پہچان کر نہ دیا، مگر اسے اس بات کی پروا نہیں تھی۔ اس کا شدید احساسِ حُسن اسے مسلسل تخلیقی عمل میں مصروف رکھتا۔ یہاں تک کہ وہ شہرت کے دروازے پر دستک دیئے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی موت کے بعد دنیا کو اس کی عظمت کا علم ہوا اور آج اس کی بعض تصاویر پندرہ اور بیس کروڑ ڈالر میں فروخت ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بڑا تجربہ تخلیق کا سرچشمہ ہے، خواہ وہ المیہ ہو یا مسرت انگیز… خواہ وہ تجربہ وصال کا ہو یا ہجر کا۔ بڑے اور گہرے تجربے کی اہمیت یہ ہے کہ وہ تخلیق کار کی ذہانت بن جاتا ہے، اس کے علم میں ڈھل جاتا ہے، اس کے تناظر میں تبدیل ہوجاتا ہے، اس کی تخلیقی صلاحیت کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔
تخلیقی انسانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بڑے تجربے کی طرح بڑی آرزو بھی تخلیق کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ اردو ادب میں اس کی سب سے بڑی مثال اقبال ہیں۔ اقبال کسی زمانے میں داغؔ کے شاگرد تھے، اور داغؔ کے پاس کچھ بھی بڑا نہیں تھا۔ اقبال اکبر الہٰ آبادی سے متاثر تھے لیکن اکبر نے اپنی طرح کی شاعری کے تمام امکانات کو استعمال کرڈالا تھا، اور اقبال اس میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن اقبال کی آرزو بڑی تھی، چنانچہ وہ داغؔ کے اثر سے بھی نکل آئے، اکبر کی بھی انہوں نے ایک حد سے زیادہ پیروی نہیں کی، اور انہوں نے اس بڑی آرزو کی بنیاد پر اردو شاعری کی ایک کائنات تخلیق کرڈالی۔ لیکن اقبال کی آرزو کیا تھی؟ اسلامی تہذیب کا احیاء اور غلبہ، اور امتِ مسلمہ کی شوکت۔ اس آرزو نے اقبال کو نئے اور عظیم الشان موضوعات دیئے، نئی اور سحر انگیز تشبیہات اور استعارے دیئے۔ اس آرزو نے اقبال کو شاعری کی نئی زبان عطا کی، منفرد اسلوب سے نوازا۔ اقبال خود کو گفتار کا غازی کہتے تھے اور سمجھتے کہ میں کردار کا غازی نہیں ہوں، لیکن اقبال کی آرزو نے اقبال کی گفتار کو کروڑوں لوگوں کے کردار سے بڑھا دیا۔
سوشلزم کے دائرے میں بڑی آرزو کا ظہور ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے کہ سوشلزم باطل تھا اور تاریخ میں اس کی جڑ بنیاد بھی نہیں تھی۔ لیکن فیض احمد فیض سوشلزم کے مخلص سپاہی تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہونے کی آرزو رکھتے تھے۔ یہ آرزو بہت سے ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں کی تھی، مگر ان کا اخلاص فیض کے اخلاص سے کم تھا۔ چنانچہ سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پر سب سے بہتر شاعری فیض ہی نے تخلیق کی۔ انہوں نے شاعری میں اپنا اسلوب پیدا کیا، نئی تشبیہات، نئے استعارے اور نئی تراکیب وضع کیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ایک ایسی فضا تخلیق کی جس نے سوشلسٹ انقلاب جیسی انسانیت سوز حقیقت کو بھی رومانوی بنادیا۔ اس کی وجہ سے فیض کی شاعری کی ابلاغی صلاحیت اور اثر آفرینی بہت بڑھ گئی۔
زبان کی اہلیت اپنی نہاد میں تخلیق کی اہلیت ہے۔ اس لیے کہ زبان کے ذریعے انسان چیزوں کو عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ انہیں نام دیتا ہے۔ انہیں تشخص عطا کرتا ہے۔ ان میں جذبے اور احساس کو برقی رو کی طرح جاری کرتا ہے۔ ان کے ذریعے خیالات، جذبات اور احساسات میں ترمیم و اضافہ کرتا ہے۔ انہیں منقلب کرتا ہے۔ ان کے ذریعے گونگے تجربات کو زبان دیتا ہے۔ ان کے ذریعے اپنے باطن کو ظاہر سے مربوط کرتا ہے۔
چنانچہ ہر بڑے تخلیق کار کے یہاں زبان کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے۔ میرؔ کا دور اردو زبان کا تشکیلی دور تھا اور اردو شاعری میں اظہار کے بڑے سانچے موجود نہیں تھے۔ میرؔ کے پاس تجربہ بڑا تھا اور اس کے لیے زبان کا بڑا سانچہ درکار تھا۔ میرؔ کے پاس یہ سانچہ موجود تھا، چنانچہ میرؔ کے تجربے اور زبان کی یکجائی نے برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کو میرؔ کی شاعری کا عظیم الشان تحفہ دیا۔ اکبر الہٰ آبادی کی شاعری میں زبان کے تخلیقی استعمال سے بھی شعر تخلیق ہوئے ہیں اور زبان کی تخریب یا Distortion سے بھی۔ اور ان دونوں کاموں کے لیے زبان کی غیر معمولی اہلیت درکار تھی۔ غالب کی شاعری کے معجزے کو ان کی زبان سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ کہنے والوں نے کہا بھی کہ اپنی زبان وہ خود سمجھتے ہیں یا خدا سمجھتا ہے۔ مگر غالب اس طرح کے الزامات سے گھبرائے نہیں۔ گھبرا جاتے تو شاید ان کی شاعرانہ عظمت کا ایک حصہ زبان پر معذرت خواہی کی نذر ہوجاتا۔ اقبال کی شاعری کے لیے اردو، فارسی اور عربی سے گہری واقفیت اور مغربی زبانوں کے تصورات سے واقفیت ناگزیر تھی۔ اس کے بغیر اقبال کی شاعری وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ لیکن یہاں زبان کی اہلیت کا مفہوم لفظوں کی گنتی نہیں، کیونکہ لغت تو نظیر اکبر آبادی اور جوش ملیح آبادی کی بھی بہت بڑی تھی، مگر ان کے یہاں زبان کسی گہری بات کو شاذ ہی سامنے لاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں صرف زبان کی قوت سے شعر کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا مواد ان کی لسانی اہلیت سے بہت کم ہے۔ اس کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا ’’تخلیقی اخلاص‘‘ میر، غالب اور اقبال سے بہت کم ہے۔
ہمارے عہد کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں تخلیق کی یہ تینوں بنیادیں کسی جگہ مشکل ہی سے فراہم ہوپاتی ہیں۔ ہمارے دور میں بڑا تجربہ نایاب ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ شخصیت پرستی کا ہولناک رجحان ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ شاعری شخصیت کا اظہار نہیں بلکہ اس سے فرار ہے۔ سوال یہ ہے کہ شاعر شخصیت سے فرار حاصل کرکے کہاں جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ شاعر شخصیت سے فرار حاصل کرکے ’’ذات‘‘کی طرف جاتا ہے جو تخلیق کا مرکز ہے۔
شخصیت ہماری سماجیات، ہماری معاشیات، ہماری سیاست اور ہماری خودغرضی پر مبنی خواہشات کا مجموعہ ہوتی ہے اور بیشتر صورتوں میں معمول کی زندگی کے لیے کفایت کرتی ہے۔ شخصیت کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ یہ اکثر انسانوں کو اپنے آپ سے بلند نہیں ہونے دیتی۔ صرف تخلیقی لوگوں کی توانائی انہیں شخصیت سے بلندکرتی ہے۔ لیکن فی زمانہ تخلیق کی آرزو اتنی کمزور ہوگئی ہے اور سماجیات اور معاشیات نے اتنی اہمیت حاصل کرلی ہے کہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والوں کی اکثریت بھی شخصیت کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔ چنانچہ وہ کسی بڑے تجربے سے دوچار نہیں ہوپاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑا تجربہ خودسپردگی کا مطالبہ کرتا ہے اور شخصیت خودسپردگی کی مزاحمت کرتی ہے۔ ہمارے عہد کا یہ المیہ بھی ہے کہ اب لوگوں کی آرزوئیں بڑی نہیں ہوتیں۔ بڑی آرزو مذہب سے آتی ہے یا تاریخ سے۔ اور فی زمانہ مذہب اور تاریخ سے یا تو لوگوں کا تعلق ہی نہیں، یا یہ تعلق سرسری اور سطحی ہے۔ ہمارے زمانے میں زبان کا مستحکم سانچہ بھی خواب و خیال بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے کہ زبان یا تو مذہب سے فراہم ہوتی ہے یا ادب بالخصوص شاعری سے… اور اب لوگ نہ مذہبیات کا گہرا مطالعہ کررہے ہیں، نہ ان کی زندگی میں ادب اور بالخصوص شاعری کے لیے کوئی جگہ ہے۔ ہمارے دور میں زبان کی اہلیت اخبارات یا ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ تک محدود ہوگئی ہے، اور ان ذرائع سے کسی کو زبان کا اچھا سانچہ فراہم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں انسانی وجود میں تخلیق کی تینوں بنیادیں کمزور پڑگئی ہیں، اور یہ مقامی نہیں عالمگیر صورتِ حال ہے، اور اس میں کسی ایک تہذیب کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے لیے سنگین خطرات موجود ہیں۔
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
اسی طرح انہوں نے کہا ہے:
درہمی دہر کی ہے ساری مرے دیواں میں
سیر کر تُو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
لیکن میرؔ کی تہذیبی شخصیت بہت مضبوط تھی، چنانچہ انہوں نے اپنے غم کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے اپنی طاقت بنالیا۔ انہوں نے شدید غم اور اس سے پیدا ہونے والی حساسیت کو اپنا ’’تناظر‘‘ بنالیا۔ اس تناظر سے انہوں نے پوری زندگی اور کائنات کو دیکھا بھی اور سمجھا بھی۔ چنانچہ میرؔ نے کہا ہے:
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
لیکن میرؔ نے ناکامیوں سے ’’کام‘‘ کیا کیا لیے ہیں؟ اس کی جھلکیاں خود میرؔ کی شاعری میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
…٭…
وجہِ بیگانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
خوش ہیں دیوانگیِ میرؔ سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
…٭…
آنکھ ہو تو آئنہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ
…٭…
وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
…٭…
تمنائے دل کے لیے جان دی
سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
…٭…
محبت نے کاڑھا ہے ظلمت سے نور
نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
ان شعروں میں معنی کی فراوانی ہے، فکر کی سطح بلند ہے، تناظر آفاقی ہے، زبان و بیان غیر معمولی ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ہر شعر پر ایک مضمون لکھا جاسکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ میرؔ کے یہاں ایسے سیکڑوں شعر موجود ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ میرؔ نے چھ ضخیم دیوان تخلیق کیے ہیں جنہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ میرؔ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں سے شاعری کا دریائے نیل یا شاعری کی گنگا برآمد ہوئی ہے۔ میرؔ کو خود بھی اس بات کا احساس تھا، چنانچہ انہوں نے کہا ہے ؎
میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
طبیعت کی یہ روانی اس بڑے تجربے کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی جس نے پوری زندگی اور ساری کائنات کو میرؔ کی شاعری کا مواد بنادیا۔ میرؔ کی شاعری سہلِ ممتنع میں ہے۔ لیکن آسان کہنے سے زیادہ مشکل کام اور کوئی نہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو میرؔ کی شاعری کا یہ کمال بھی اُن کے بڑے تجربے کی دین ہے۔ انسان کا تجربہ بڑا ہو تو احساس کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ عام الفاظ بھی بڑے معنی کا ظرف بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر تجربہ بڑا اور گہرا نہ ہو بلکہ صرف بڑے تجربے کا خیال موجود ہو تو انسان پھر چھوٹے معنی کو بڑے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اردو میں جوش ملیح آبادی کی شخصیت اور شاعری اس کی بڑی مثال ہے۔
قرۃ العین حیدر اردو کی سب سے بڑی ناول نگار ہیں اور انہوں نے ایک دو نہیں، پانچ ناول لکھے ہیں۔ لیکن دراصل انہوں نے پانچ نہیں ایک ہی ناول لکھا ہے، اور ان کے پانچ ناول دراصل ان کے ایک ہی ناول کے پانچ ابواب ہیں۔ بلاشبہ یہ ناول ایک دوسرے سے مختلف پس منظر کو سامنے لاتے ہیں مگر ان تمام ناولوں کا ’’ہیرو‘‘ ایک ہے… یعنی ’’وقت‘‘۔ قرۃ العین حیدر نے اچھا خاصا فلسفہ پڑھ رکھا ہے مگر ان کے یہاں وقت کا تصور فلسفیانہ نہیں المناک ہے۔ ان کے ناولوں میں ہر طرف وقت کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ دنیا کے منظرنامے پر بڑی بڑی شخصیتیں طلوع ہوتی ہیں، بڑی بڑی تحریکیں جنم لیتی ہیں، بڑے بڑے خیالات ابھرتے ہیں، بڑی بڑی تہذیبیں اپنی بہاریں دکھاتی ہیں، لیکن وقت ہر چیز کو نگل جاتا ہے۔ قرۃ العین حیدر، اقبال سے بہت متاثر ہیں، مگر اقبال کی شاعری میں کائنات کی سب سے بڑی قوت وقت نہیں، عشق ہے جو وقت پر بھی غالب آجاتا ہے۔ لیکن قرۃ العین کے ناولوں میں وقت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو وقت کا یہی شدید المیہ احساس قرۃ العین حیدر کی شخصیت میں تخلیق کا سرچشمہ ہے اور ان کی پوری شخصیت اس کی گرفت میں محسوس ہوتی ہے۔ وقت کے اس شدید المیہ احساس سے اُن کے ناولوں کے موضوعات جنم لیتے ہیں۔ یہیں سے ان کے ناولوں کی بے مثال تفصیلات جنم لیتی ہیں۔ یہیں سے ان کا وہ اسلوب پیدا ہوتا ہے جو نثر میں شاعری کی لذت پیدا کردیتا ہے، جو ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’گردشِ رنگِ چمن‘‘ میں اپنے عروج پر ہے۔
وین گوف مغرب میں مصوری کے بڑے ناموں میں سے ایک ہے۔ بعض لوگ اسے مصوری میں تاثراتی اسکول کا بانی بھی کہتے ہیں۔ اگر ہمیں صحیح یاد ہے تو اس نے ابتدا میں کان کنی بھی کی، وہ کچھ عرصے کے لیے پادری کے روپ میں بھی سامنے آیا، لیکن اس کی شخصیت پر ابتدا ہی سے فطری مظاہر کے حسن و جمال کا شدید غلبہ تھا۔ اس غلبے نے اسے خودبخود مصوری کی جانب مائل کردیا، یہاں تک کہ اس کی شخصیت منقلب یا Transform ہوکر ایک مصور کی شخصیت بن گئی۔ اس کے مزاج میں بلا کی شدت تھی، وہ جس سے تعلق قائم کرتا، شدت کے ساتھ کرتا۔ اور اکثر لوگ اس کی شدت سے ڈر جاتے اور اس سے دور ہوجاتے۔ چنانچہ اس کی زندگی تقریباً ایک تنہا انسان کی زندگی تھی۔ اس کی معاشی حالت آخری وقت تک خراب رہی۔ اگر اس کا بھائی مسلسل اس کی مالی مدد نہ کرتا تو وہ بھوکا مر جاتا اور اس کے پاس کینوس، رنگ اور برش خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوتے۔ وین گوف فطری مظاہر کو دیکھتا تو اس پر دیوانگی طاری ہوجاتی، اور وہ بلا رکے 24 گھنٹے پینٹنگز بناتا رہتا۔ اسے اس کے زمانے نے پہچان کر نہ دیا، مگر اسے اس بات کی پروا نہیں تھی۔ اس کا شدید احساسِ حُسن اسے مسلسل تخلیقی عمل میں مصروف رکھتا۔ یہاں تک کہ وہ شہرت کے دروازے پر دستک دیئے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی موت کے بعد دنیا کو اس کی عظمت کا علم ہوا اور آج اس کی بعض تصاویر پندرہ اور بیس کروڑ ڈالر میں فروخت ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بڑا تجربہ تخلیق کا سرچشمہ ہے، خواہ وہ المیہ ہو یا مسرت انگیز… خواہ وہ تجربہ وصال کا ہو یا ہجر کا۔ بڑے اور گہرے تجربے کی اہمیت یہ ہے کہ وہ تخلیق کار کی ذہانت بن جاتا ہے، اس کے علم میں ڈھل جاتا ہے، اس کے تناظر میں تبدیل ہوجاتا ہے، اس کی تخلیقی صلاحیت کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔
تخلیقی انسانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بڑے تجربے کی طرح بڑی آرزو بھی تخلیق کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ اردو ادب میں اس کی سب سے بڑی مثال اقبال ہیں۔ اقبال کسی زمانے میں داغؔ کے شاگرد تھے، اور داغؔ کے پاس کچھ بھی بڑا نہیں تھا۔ اقبال اکبر الہٰ آبادی سے متاثر تھے لیکن اکبر نے اپنی طرح کی شاعری کے تمام امکانات کو استعمال کرڈالا تھا، اور اقبال اس میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن اقبال کی آرزو بڑی تھی، چنانچہ وہ داغؔ کے اثر سے بھی نکل آئے، اکبر کی بھی انہوں نے ایک حد سے زیادہ پیروی نہیں کی، اور انہوں نے اس بڑی آرزو کی بنیاد پر اردو شاعری کی ایک کائنات تخلیق کرڈالی۔ لیکن اقبال کی آرزو کیا تھی؟ اسلامی تہذیب کا احیاء اور غلبہ، اور امتِ مسلمہ کی شوکت۔ اس آرزو نے اقبال کو نئے اور عظیم الشان موضوعات دیئے، نئی اور سحر انگیز تشبیہات اور استعارے دیئے۔ اس آرزو نے اقبال کو شاعری کی نئی زبان عطا کی، منفرد اسلوب سے نوازا۔ اقبال خود کو گفتار کا غازی کہتے تھے اور سمجھتے کہ میں کردار کا غازی نہیں ہوں، لیکن اقبال کی آرزو نے اقبال کی گفتار کو کروڑوں لوگوں کے کردار سے بڑھا دیا۔
سوشلزم کے دائرے میں بڑی آرزو کا ظہور ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے کہ سوشلزم باطل تھا اور تاریخ میں اس کی جڑ بنیاد بھی نہیں تھی۔ لیکن فیض احمد فیض سوشلزم کے مخلص سپاہی تھے اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہونے کی آرزو رکھتے تھے۔ یہ آرزو بہت سے ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں کی تھی، مگر ان کا اخلاص فیض کے اخلاص سے کم تھا۔ چنانچہ سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پر سب سے بہتر شاعری فیض ہی نے تخلیق کی۔ انہوں نے شاعری میں اپنا اسلوب پیدا کیا، نئی تشبیہات، نئے استعارے اور نئی تراکیب وضع کیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ایک ایسی فضا تخلیق کی جس نے سوشلسٹ انقلاب جیسی انسانیت سوز حقیقت کو بھی رومانوی بنادیا۔ اس کی وجہ سے فیض کی شاعری کی ابلاغی صلاحیت اور اثر آفرینی بہت بڑھ گئی۔
زبان کی اہلیت اپنی نہاد میں تخلیق کی اہلیت ہے۔ اس لیے کہ زبان کے ذریعے انسان چیزوں کو عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ انہیں نام دیتا ہے۔ انہیں تشخص عطا کرتا ہے۔ ان میں جذبے اور احساس کو برقی رو کی طرح جاری کرتا ہے۔ ان کے ذریعے خیالات، جذبات اور احساسات میں ترمیم و اضافہ کرتا ہے۔ انہیں منقلب کرتا ہے۔ ان کے ذریعے گونگے تجربات کو زبان دیتا ہے۔ ان کے ذریعے اپنے باطن کو ظاہر سے مربوط کرتا ہے۔
چنانچہ ہر بڑے تخلیق کار کے یہاں زبان کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے۔ میرؔ کا دور اردو زبان کا تشکیلی دور تھا اور اردو شاعری میں اظہار کے بڑے سانچے موجود نہیں تھے۔ میرؔ کے پاس تجربہ بڑا تھا اور اس کے لیے زبان کا بڑا سانچہ درکار تھا۔ میرؔ کے پاس یہ سانچہ موجود تھا، چنانچہ میرؔ کے تجربے اور زبان کی یکجائی نے برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کو میرؔ کی شاعری کا عظیم الشان تحفہ دیا۔ اکبر الہٰ آبادی کی شاعری میں زبان کے تخلیقی استعمال سے بھی شعر تخلیق ہوئے ہیں اور زبان کی تخریب یا Distortion سے بھی۔ اور ان دونوں کاموں کے لیے زبان کی غیر معمولی اہلیت درکار تھی۔ غالب کی شاعری کے معجزے کو ان کی زبان سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ کہنے والوں نے کہا بھی کہ اپنی زبان وہ خود سمجھتے ہیں یا خدا سمجھتا ہے۔ مگر غالب اس طرح کے الزامات سے گھبرائے نہیں۔ گھبرا جاتے تو شاید ان کی شاعرانہ عظمت کا ایک حصہ زبان پر معذرت خواہی کی نذر ہوجاتا۔ اقبال کی شاعری کے لیے اردو، فارسی اور عربی سے گہری واقفیت اور مغربی زبانوں کے تصورات سے واقفیت ناگزیر تھی۔ اس کے بغیر اقبال کی شاعری وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ لیکن یہاں زبان کی اہلیت کا مفہوم لفظوں کی گنتی نہیں، کیونکہ لغت تو نظیر اکبر آبادی اور جوش ملیح آبادی کی بھی بہت بڑی تھی، مگر ان کے یہاں زبان کسی گہری بات کو شاذ ہی سامنے لاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں صرف زبان کی قوت سے شعر کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا مواد ان کی لسانی اہلیت سے بہت کم ہے۔ اس کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا ’’تخلیقی اخلاص‘‘ میر، غالب اور اقبال سے بہت کم ہے۔
ہمارے عہد کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں تخلیق کی یہ تینوں بنیادیں کسی جگہ مشکل ہی سے فراہم ہوپاتی ہیں۔ ہمارے دور میں بڑا تجربہ نایاب ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ شخصیت پرستی کا ہولناک رجحان ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ شاعری شخصیت کا اظہار نہیں بلکہ اس سے فرار ہے۔ سوال یہ ہے کہ شاعر شخصیت سے فرار حاصل کرکے کہاں جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ شاعر شخصیت سے فرار حاصل کرکے ’’ذات‘‘کی طرف جاتا ہے جو تخلیق کا مرکز ہے۔
شخصیت ہماری سماجیات، ہماری معاشیات، ہماری سیاست اور ہماری خودغرضی پر مبنی خواہشات کا مجموعہ ہوتی ہے اور بیشتر صورتوں میں معمول کی زندگی کے لیے کفایت کرتی ہے۔ شخصیت کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ یہ اکثر انسانوں کو اپنے آپ سے بلند نہیں ہونے دیتی۔ صرف تخلیقی لوگوں کی توانائی انہیں شخصیت سے بلندکرتی ہے۔ لیکن فی زمانہ تخلیق کی آرزو اتنی کمزور ہوگئی ہے اور سماجیات اور معاشیات نے اتنی اہمیت حاصل کرلی ہے کہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والوں کی اکثریت بھی شخصیت کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔ چنانچہ وہ کسی بڑے تجربے سے دوچار نہیں ہوپاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑا تجربہ خودسپردگی کا مطالبہ کرتا ہے اور شخصیت خودسپردگی کی مزاحمت کرتی ہے۔ ہمارے عہد کا یہ المیہ بھی ہے کہ اب لوگوں کی آرزوئیں بڑی نہیں ہوتیں۔ بڑی آرزو مذہب سے آتی ہے یا تاریخ سے۔ اور فی زمانہ مذہب اور تاریخ سے یا تو لوگوں کا تعلق ہی نہیں، یا یہ تعلق سرسری اور سطحی ہے۔ ہمارے زمانے میں زبان کا مستحکم سانچہ بھی خواب و خیال بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے کہ زبان یا تو مذہب سے فراہم ہوتی ہے یا ادب بالخصوص شاعری سے… اور اب لوگ نہ مذہبیات کا گہرا مطالعہ کررہے ہیں، نہ ان کی زندگی میں ادب اور بالخصوص شاعری کے لیے کوئی جگہ ہے۔ ہمارے دور میں زبان کی اہلیت اخبارات یا ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ تک محدود ہوگئی ہے، اور ان ذرائع سے کسی کو زبان کا اچھا سانچہ فراہم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں انسانی وجود میں تخلیق کی تینوں بنیادیں کمزور پڑگئی ہیں، اور یہ مقامی نہیں عالمگیر صورتِ حال ہے، اور اس میں کسی ایک تہذیب کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے لیے سنگین خطرات موجود ہیں۔
مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانی وجود میں تخلیق اس ا رزو نے اقبال کو لیکن اقبال کی ا رزو تخلیق کا سرچشمہ ہے جوش ملیح ا بادی کی نے پوری زندگی اور شدید المیہ احساس چنانچہ انہوں نے انہوں نے کہا ہے وجہ یہ ہے کہ ان قرۃ العین حیدر اقبال کی شاعری تینوں بنیادیں بالخصوص شاعری مگر ان کے یہاں تخلیقی صلاحیت سوشلسٹ انقلاب اس لیے کہ زبان دیکھا جائے تو زبان کی اہلیت کے یہاں زبان ہمارے عہد کا میں تخلیق کی کی شاعری میں شاعری کے لیے یہاں زبان کی جنم لیتی ہیں اقبال سے بہت ممکن ہی نہیں بڑے تجربے کی انہوں نے ایک اور انہوں نے تہذیب کے لیے ناکامیوں سے کی سب سے بڑی سے بہت کم ہے کی بنیاد پر اس کی شخصیت ان کی زندگی ان کے ذریعے اور زبان کی کے لیے زبان کی شاعری کے کی شاعری کا ایک ہی ناول تخلیقی عمل غیر معمولی عظیم الشان چنانچہ میر فطری مظاہر اسلوب پیدا تخلیق کی ا یہیں سے ان پانچ ناول نہیں بلکہ موجود ہیں اور احساس تخلیق کار سوشلزم کے چنانچہ وہ تجربہ بڑا کائنات کو اور تاریخ اور اقبال بڑا تجربہ چنانچہ ان اس کی شدت اور اس کے بڑی ا رزو میں اس کی اس کی وجہ اور اس سے ہوتی ہیں نہیں تھا تاریخ سے بڑی مثال اکبر الہ ہوگئی ہے فی زمانہ نہیں تھی شاعری ک
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔