اسرائیل نے مصری ٹیم کو غزہ میں یرغمالیوں کی لاشیں ڈھونڈنے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پہلی بار مصری تکنیکی ٹیم کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہاں مارے جانے والے یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی جا سکے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ کئی ہفتوں کی بندش اور سخت سیکورٹی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق مصر اور ریڈ کراس کی ٹیموں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے مقرر کردہ یلو لائن کے پار محدود پیمانے پر کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
صہیونی ریاست کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اب بھی غزہ کی مکمل سیکورٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور یہ داخلہ صرف انسانی بنیادوں پر مخصوص امدادی مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ کوئی بھی کارروائی اسرائیلی نگرانی اور اجازت کے بغیر نہیں ہوگی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے زیرِ قبضہ علاقے پر کسی قسم کی خودمختاری دینے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر اعلان کیا کہ غزہ میں کسی بین الاقوامی فورس کی تعیناتی سے متعلق فیصلہ صرف اسرائیل خود کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سیکورٹی کے واحد ذمہ دار ہیں اور یہ بھی ہم طے کریں گے کہ کون سی غیر ملکی قوت ہمارے لیے قابلِ قبول ہے اور کون سی نہیں۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے مستقبل، بین الاقوامی فورس کے قیام، اور سیکورٹی کے انتظامات سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ غزہ میں ایک غیرجانبدار عالمی فورس تعینات کی جائے تاکہ انسانی امداد بحال ہو اور حالات میں استحکام لایا جا سکے، مگر اسرائیل اس تجویز کو اپنے مفادات کے خلاف قرار دے رہا ہے۔
اُدھر قاہرہ میں مصری حکام نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم صرف انسانی بنیادوں پر کام کرے گی اور اس کا مقصد لاشوں کو نکال کر انسانی وقار کے مطابق تدفین کے عمل کو ممکن بنانا ہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں اور مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل کے اس اقدام کو سیاسی نمائش قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر اسرائیل واقعی انسانی ہمدردی چاہتا ہے تو وہ فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کرے اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو بلا روک ٹوک کام کرنے دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔