data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پہلی بار مصری تکنیکی ٹیم کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہاں مارے جانے والے یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش کی جا سکے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ کئی ہفتوں کی بندش اور سخت سیکورٹی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق مصر اور ریڈ کراس کی ٹیموں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے مقرر کردہ یلو لائن کے پار محدود پیمانے پر کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

صہیونی ریاست کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اب بھی غزہ کی مکمل سیکورٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور یہ داخلہ صرف انسانی بنیادوں پر مخصوص امدادی مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ کوئی بھی کارروائی اسرائیلی نگرانی اور اجازت کے بغیر نہیں ہوگی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے زیرِ قبضہ علاقے پر کسی قسم کی خودمختاری دینے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر اعلان کیا کہ غزہ میں کسی بین الاقوامی فورس کی تعیناتی سے متعلق فیصلہ صرف اسرائیل خود کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سیکورٹی کے واحد ذمہ دار ہیں اور یہ بھی ہم طے کریں گے کہ کون سی غیر ملکی قوت ہمارے لیے قابلِ قبول ہے اور کون سی نہیں۔

یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے مستقبل، بین الاقوامی فورس کے قیام، اور سیکورٹی کے انتظامات سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ غزہ میں ایک غیرجانبدار عالمی فورس تعینات کی جائے تاکہ انسانی امداد بحال ہو اور حالات میں استحکام لایا جا سکے، مگر اسرائیل اس تجویز کو اپنے مفادات کے خلاف قرار دے رہا ہے۔

اُدھر قاہرہ میں مصری حکام نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم صرف انسانی بنیادوں پر کام کرے گی اور اس کا مقصد لاشوں کو نکال کر انسانی وقار کے مطابق تدفین کے عمل کو ممکن بنانا ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں اور مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل کے اس اقدام کو سیاسی نمائش قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر اسرائیل واقعی انسانی ہمدردی چاہتا ہے تو وہ فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کرے اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو بلا روک ٹوک کام کرنے دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد