قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ یہاں مفت میں کوئی لانچ نہیں کراتا، سب استعمال ہوتے ہیں۔

ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں ٹیم بغیر گروہ بندی کے بن ہی نہیں سکتی، میں کپتان بنا تو مجھے اس وقت کے چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیا کو منانا پڑا کیوں دوسروں کو ڈرانا تھا، یہاں ہر کوئی استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب بھی تمام کھلاڑی استعمال ہورہے ہیں یہ بعد میں پتا چلے گا، کچھ کھلاڑیوں کو منع بھی کیا تھا کہ پاکستان کی کپتانی مت لیں آپ کو استعمال کیا جارہا ہے، آپ کو ایسے پھینکیں گے جس طرح کل رات پھینکا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: محمد رضوان کو مذہبی ماحول فروغ دینے پر کپتانی سے ہٹایا گیا، راشد لطیف کا دعویٰ

راشد لطیف نے کہا کہ عبداللہ شفیق کھیلتا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا، صرف 2 کھلاڑیوں کو ہدف بنایا ہوا ہے، شان مسعود کیا محفوظ کیا جا رہا ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ یہاں پسند ناپسند کو دیکھا جارہا ہے۔ جس کھلاڑی کو ٹیم میں ہی نہیں ہونا چاہیے وہ کپتان بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی چیئرمین پی سی بی سے مطمئن نہیں ہوا ہوں، یہ سارے مہرے ہیں، سلمان علی آغا کو ایک روزہ کرکٹ کا کپتان بنانا چاہیے اور شاہین شاہ آفریدی کو ٹی ٹونٹی کا کپتان ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی سی بی راشد لطیف کپتان کرکٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی سی بی راشد لطیف کپتان کرکٹ راشد لطیف نے کہا کہ پی سی بی

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف