پی سی بی نے ہمیشہ گروپ بندی کی حمایت کی اور کھلاڑیوں کو لڑوایا، راشد لطیف نے سارے راز بیان کردیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ یہاں مفت میں کوئی لانچ نہیں کراتا، سب استعمال ہوتے ہیں۔
ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں ٹیم بغیر گروہ بندی کے بن ہی نہیں سکتی، میں کپتان بنا تو مجھے اس وقت کے چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیا کو منانا پڑا کیوں دوسروں کو ڈرانا تھا، یہاں ہر کوئی استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب بھی تمام کھلاڑی استعمال ہورہے ہیں یہ بعد میں پتا چلے گا، کچھ کھلاڑیوں کو منع بھی کیا تھا کہ پاکستان کی کپتانی مت لیں آپ کو استعمال کیا جارہا ہے، آپ کو ایسے پھینکیں گے جس طرح کل رات پھینکا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: محمد رضوان کو مذہبی ماحول فروغ دینے پر کپتانی سے ہٹایا گیا، راشد لطیف کا دعویٰ
راشد لطیف نے کہا کہ عبداللہ شفیق کھیلتا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا، صرف 2 کھلاڑیوں کو ہدف بنایا ہوا ہے، شان مسعود کیا محفوظ کیا جا رہا ہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ یہاں پسند ناپسند کو دیکھا جارہا ہے۔ جس کھلاڑی کو ٹیم میں ہی نہیں ہونا چاہیے وہ کپتان بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی چیئرمین پی سی بی سے مطمئن نہیں ہوا ہوں، یہ سارے مہرے ہیں، سلمان علی آغا کو ایک روزہ کرکٹ کا کپتان بنانا چاہیے اور شاہین شاہ آفریدی کو ٹی ٹونٹی کا کپتان ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی سی بی راشد لطیف کپتان کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی سی بی راشد لطیف کپتان کرکٹ راشد لطیف نے کہا کہ پی سی بی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔