کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) جیسے گروپس نوجوانوں کو مبینہ طور پر اپنے جال میں پھنسانے کے لیے نوکری، مالی امداد، تعلیم اور تحفظ کے فریب آمیز وعدے کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ سی ٹی ڈی کی کارروائیوں، ضبط شدہ پیغامات اور گرفتاریوں سے سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچ عسکریت پسند گلزار امام عرف امام شنبے کی گرفتاری کا ایک سال، بلوچستان کے حالات پر کیا اثر پڑا؟

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ گروپس سماجی رابطوں، ذاتی روابط اور پروپیگنڈے کے ذریعے تعلیم یافتہ اور کمزور مالی پس منظر کے حامل نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں جب کہ گرفتار شدہ رہنماؤں کی خودی وضاحتیں اور افسوس کے بیانات ان حکمت عملیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

سرکاری تفتیش اور زیر حراست افراد کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کو پہلے حکومت مخالف جذبات سے بھڑکایا جاتا، پھر انہیں روزگار، بیرونِ ملک یا داخلی اسکالرشپس، ماہانہ معاوضے اور خاندان کے تحفظ کے عوض گروپ میں شامل ہونے کی پیشکش کی جاتی۔ جب نوجوان راضی ہو جاتے ہیں تو انہیں پہاڑوں یا خفیہ ٹھکانوں میں لے جایا جاتا۔ اکثر صورتوں میں وہاں انہیں مسلح کارروائیوں یا ہتھیار بردار رولز کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے جبکہ کچھ کی تصویروں کو لاپتا دکھا کر رشتہ داروں کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔

09 نومبر 2024 کو باضابطہ پریس کانفرنس میں پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم طلعت عزیز نے اعتراف کیا کہ وہ کالعدم تنظیم کے زیر اثر آ گیا تھا۔

طلعت نے بتایا کہ پہاڑوں پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں پانچوں اور نہتے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ اس نے واضح کیا کہ میں ایک پڑھا لکھا نوجوان ہوں لیکن ان کی وجہ سے اپنا مستقبل گنوا دیا۔

اسی طرح 23 مئی 2023 کو گلزار امام شنبے جو ماضی میں بلوچ نیشنلسٹ آرمی بی این اے کا سربراہ تھا اپنے ایک اطرافی بیان میں اس بات کی وضاحت کر چکا ہے کہ مسائل کا حل پرامن بات چیت سے نکالا جائے اور مسلح جدوجہد کے راستے کو غلط قرار دے کر معافی کا اظہار کیا۔ اس کے بیانات نے اس بات کی عکاسی کی کہ گروہی رہنما بھی جذبہ و حکمت عملی کے بارے میں دوبارہ غور کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان سے لڑائی افغان طالبان کی تنہائی میں اضافہ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دوران تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ گروہ طلبہ، اسکولوں اور کالجوں کے نوجوانوں کو 50 ہزار روپے تک دے کر بھرتی کرتے تھے اور بعض معاملات میں چھوٹے بچوں کو ہتھیار کی ترسیل میں استعمال کیا گیا۔

سماجی کارکن اور امن کے محققین کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل صرف سیکیورٹی آپریشنز نہیں ہو سکتے۔ ان کے بقول کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزگار کے فوری متبادل پروگرام، تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مدد اور شعوری تربیت، آن لائن پلیٹ فارمز پر مونیٹرنگ اور عوامی شعور بیدار کرنے والی مہمات، گرفتاری شدہ افراد کی شفاف تفتیش اور عدالتی کارروائی تاکہ سزا اور بازگشت کا تاثر پیدا ہو۔

سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں اور رہنماؤں کے اعترافات وقتی طور پر گروہوں کی بھرتی کی رفتار کم کر سکتے ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اور سماجی خلا کو پر نہیں کیا گیا تو گروہ نئی تکنیکس سے دوبارہ نوجوانوں کو نشانہ بنائیں گے۔

طلعت عزیز اور گلزار امام شنبے جیسے معاملات بتاتے ہیں کہ کچھ نوجوان واپس آ رہے ہیں مگر اس لیے کہ نظامی اصلاحات اور بامعنی متبادل مواقع فراہم کیے جائیں ورنہ بھرتی کا عمل جاری رہے گا۔

ضبط شدہ پیغامات، گرفتاریوں اور خود گروہی رہنماؤں کے بیانات نے ایک واضح نقشہ دیا ہے۔ کالعدم تنظیمیں نوجوانوں کی کمزوریوں کو جان کر انہیں لالچ، دھوکہ اور جبراً شمولیت کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کالعدم بی ایل اے کو بیرونی ایجنسیاں فنڈنگ کرتی ہیں، سرفراز بنگلزئی

حکومت، تعلیمی ادارے، کمیونٹی لیڈرز اور شہری معاشرہ مل کر ہی اس زنجیر کو توڑ سکتے ہیں بصیرت، مواقع اور شفاف انصاف کے بغیر نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کا خواب ادھورا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بی ایل اے بی ایل اے اور بلوچ نوجوان بی وائی سی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بی ایل اے بی ایل اے اور بلوچ نوجوان بی وائی سی نوجوانوں کو کے بیانات بی ایل اے کرتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان