طلبہ یونینز اور اسلامی جمعیت طلبہ؛ ’’میں‘‘ سے ’’ہم‘‘ کا سفر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
’’یہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا‘‘۔ (کہف: 13) بنگلا دیش میں طلبہ سیاست کی نئی بیداری، چھاترو شبر کی فتوحات کا تسلسل بنگلا دیش کی جامعات میں اسلامی چھاترو شبر کی حالیہ مسلسل کامیابیاں ایک فکری و سیاسی بیداری کی علامت بن چکی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران جامعہ ڈھاکا، جامعہ جہانگیر نگر، جامعہ چاٹگام اور اب جامعہ راجشاہی میں چھاترو شبر نے طلبہ یونین انتخابات میں نمایاں فتوحات حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ نظریاتی سیاست آج بھی نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ جامعہ راجشاہی میں چھاترو شبر نے 23 میں سے 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، سینیٹ کی پانچ میں سے تین نشستیں جیتیں، جبکہ خواتین امور کی دونوں نشستیں بھی اپنے نام کیں۔ اس سے قبل جامعہ ڈھاکا میں چھاترو شبر نے تاریخی انداز میں بڑی طلبہ جماعتوں کو پیچھے چھوڑا، جامعہ جہانگیر نگر میں نظریاتی بنیادوں پر اتحاد قائم کیا، اور جامعہ چاٹگام میں مسلسل دوسرے سال نمایاں کامیابی حاصل کی۔ یہ فتوحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بنگلا دیش کے تعلیمی اداروں میں نوجوان طبقہ نظریاتی، اخلاقی اور جمہوری شعور کے ساتھ سیاسی عمل میں بھرپور شرکت کر رہا ہے۔ یہ صرف انتخابی نتائج نہیں، بلکہ ایک فکری رجحان کی واپسی ہے۔ ایک ایسا رجحان جو نوجوانوں کو مقصد، نظریہ، اور قیادت کے شعور سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔
یہ منظر پاکستان کے تعلیمی و سیاسی تناظر میں گہرا سوال اٹھاتا ہے: کیا پاکستان کے نوجوان بھی اپنی خاموشی توڑنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا یہاں بھی وہ وقت آنے والا ہے جب کیمپسوں سے پھر وہی صدائیں بلند ہوں گی جو کبھی ایوبی آمریت کے خلاف گونجتی تھیں؟ پاکستان کی تاریخ میں طلبہ یونینز محض تنظیمی ادارے نہیں بلکہ سماجی و سیاسی تربیت گاہیں رہی ہیں۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جب ملک سیاسی انتشار کا شکار تھا، طلبہ سیاست نے ایک نئی توانائی پیدا کی۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف 1968-69 کی عوامی تحریک ہو یا بھٹو کے ابتدائی سیاسی عروج کا زمانہ ہر جگہ طلبہ یونینز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ لاہور، کراچی، ڈھاکا، پشاور اور کوئٹہ کی سڑکیں نوجوانوں کے نعروں سے گونجتی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب یونیورسٹی کی دیواریں صرف علم کی نہیں، شعور کی علامت بھی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کی سیاست کو عوامی رنگ دینے میں سب سے اہم کردار نوجوانوں کا تھا۔ طلبہ یونینز نے ملک کے سیاسی اُفق پر قیادت پیدا کرنے کی نرسری کا کردار ادا کیا۔ لیکن جب یہ قوت طاقتور ہوئی تو اقتدار کے ایوانوں میں خوف پیدا ہوا۔ 1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی۔ یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی تھا۔ آمریت کو احساس تھا کہ اگر نوجوان متحد ہوئے تو وہ اقتدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جائیں گے۔ یوں ایک ایسے عمل کا آغاز ہوا جس نے پاکستان کو قیادت کی تربیت سے محروم کر دیا۔
1947ء میں قائم ہونے والی اسلامی جمعیت طلبہ نے پاکستان میں طلبہ سیاست کو ایک فکری و اخلاقی جہت دی۔ جمعیت نے نوجوانوں کو یہ سبق دیا کہ تعلیم صرف نوکری کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی، خودی کی تعمیر اور قیادت کی تیاری کا میدان ہے۔ جمعیت نے کیمپس میں مطالعہ، مکالمہ، خدمت اور نظم و ضبط کا وہ ماحول پیدا کیا، جس نے ہزاروں نوجوانوں کو فکری طور پر بیدار اور عملی طور پر منظم کیا۔ اسی جمعیت کے تربیت یافتہ نوجوان بعد میں سیاست، صحافت، تدریس، ادب، اور سماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں ہوئے۔ ان کی سوچ میں اجتماعیت، کردار میں ضبط، اور گفتار میں نظریاتی وضاحت پائی جاتی تھی۔ جمعیت نے نوجوانوں کو ’’میں‘‘ سے ’’ہم‘‘ بننے کا درس دیا اور یہی درس ہر فکری تحریک کی روح ہے۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات تھا، جو طلبہ کو فرد سے جماعت، اور جماعت سے امت کی سطح پر سوچنے کا ہنر سکھاتا تھا۔ 1984ء کے بعد سے طلبہ یونینز پر پابندی نے پاکستانی سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ نوجوان نسل قیادت کی مشق سے محروم ہوگئی۔ جامعات میں وہ فکری مکالمہ جو کبھی معاشرتی تبدیلی کی بنیاد بنتا تھا، بتدریج ختم ہوگیا۔ طلبہ سوسائٹیوں اور غیر سیاسی گروپوں میں بٹ گئے۔ قیادت کا تسلسل ٹوٹا، اور یوں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے بعد میں خاندانی سیاست، موروثی قیادت، اور مفاداتی گروہوں نے پْر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں سیاسی قیادت کا معیار گر چکا ہے۔ نوجوان جو قیادت کے حقدار تھے، وہ صرف تماشائی بن گئے۔ جبکہ وہی نوجوان جو ماضی میں نظریاتی پلیٹ فارم سے قیادت سیکھتے تھے، آج ان کے لیے سیاست محض ’’نعرہ بازی‘‘ بن کر رہ گئی ہے۔
2008 کے بعد مختلف حکومتوں نے طلبہ یونینز کی بحالی کے اعلانات ضرور کیے، مگر عملی اقدامات سے ہمیشہ گریز کیا۔ حکمران طبقے کو علم ہے کہ اگر نوجوانوں کو متحد پلیٹ فارم میسر آگیا تو وہ کرپٹ سیاسی نظام کو چیلنج کریں گے۔ اسی خوف نے طلبہ کو ہمیشہ خاموش رکھنے کی پالیسی کو جاری رکھا۔ آج جب ہم بنگلا دیش، بھارت اور مغربی ممالک کو دیکھتے ہیں تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ بھارت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی جیسے اداروں میں طلبہ یونینز نہ صرف فعال ہیں بلکہ قومی قیادت کی نرسری سمجھی جاتی ہیں۔ بنگلا دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں اسلامی چھاترو شبر جیسے نظریاتی طلبہ گروہ مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ راجشاہی کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ نوجوان اگر نظریے، نظم و ضبط، اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں تو وہ انتخابی میدان میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ راجشاہی کی یہ کامیابی دراصل ایک پیغام ہے؛ پاکستان کے لیے۔ وہی پاکستان جس نے ماضی میں جمعیت کے تربیت یافتہ نوجوانوں کو قومی سطح کی قیادت دی، آج خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے۔ لیکن یہ خاموشی دائمی نہیں۔ یہ توقف شاید کسی نئے آغاز سے پہلے کا لمحہ ہے۔ جیسے موسمِ بہار سے پہلے خاموش برف زمین کو ڈھانپ لیتی ہے، مگر اس کے نیچے زندگی سانس لے رہی ہوتی ہے۔
قوموں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ نوجوان ہمیشہ تبدیلی کے علمبردار ہوتے ہیں۔یورپ کی نشاۃ ثانیہ، ایران کا انقلاب، اور عرب دنیا کی بیداری؛ ہر جگہ نوجوانوں نے قیادت کی۔ تحریک ِ پاکستان بھی اسی اصول پر قائم ہوئی۔ مسلم طلبہ فیڈریشن کے نوجوانوں نے برصغیر کے سیاسی افق پر وہ طوفان برپا کیا جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی اعتماد کھو چکی ہیں، نظام زوال کا شکار ہے، اور نوجوان مایوسی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی طبقہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے تو وہ نوجوان ہی ہیں۔ مگر یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب انہیں قیادت کا پلیٹ فارم، اظہارِ رائے کی آزادی، اور اجتماعی تربیت کا موقع دیا جائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ جیسے ادارے اسی ضرورت کا جواب ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلبہ یونینز پر پابندی غیر آئینی، غیر جمہوری، اور غیر اخلاقی ہے۔ یہ صرف طلبہ کا نہیں، قوم کا نقصان ہے۔ کیونکہ جب نوجوان سیاست سے کٹ جاتے ہیں تو ملک مستقبل کی قیادت سے محروم ہو جاتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں پر ازسرنو غور کریں۔ طلبہ یونینز کی بحالی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک فکری انقلاب کی شروعات ہوگی۔ یہ نوجوانوں کو ذمے داری، قیادت، اور اجتماعی شعور کا احساس واپس دے گی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ نوجوانوں کو یہ سبق دیا کہ انفرادی کامیابی سے بڑھ کر اجتماعی کامیابی ہے۔ ’’میں‘‘ سے ’’ہم‘‘ بننے کا یہی سفر دراصل قوم کی تعمیر کا راستہ ہے۔ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو یہ موقع فراہم نہ کیا تو ان کی توانائی یا تو مایوسی میں ضائع ہوگی یا غلط سمت اختیار کر لے گی۔
پاکستان کی تقدیر نوجوانوں سے جڑی ہے۔ وہ دن زیادہ دور نہیں جب خاموشی کی چادر چاک ہوگی، اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پھر سے نظریہ، عزم اور عمل کی صدائیں بلند ہوں گی۔ اس وقت ان کے نعروں میں صرف ’’میں‘‘ نہیں بلکہ ’’ہم‘‘ کی گونج ہوگی اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب پاکستان اپنی اصل منزل کی طرف بڑھنا شروع کرے گا۔ بنگلا دیش کی جامعات میں چھاتروشبر کی فتوحات دراصل ایک اعلان ہیں کہ نوجوان اگر نظریے پر یقین رکھتے ہوں تو وہ تاریخ بدل سکتے ہیں۔ اب یہ پاکستان پر ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو یہ حق دیتا ہے یا انہیں مزید خاموشی کے اندھیروں میں دھکیلتا ہے۔ فیصلہ قوم کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ نے نوجوانوں کو نوجوانوں کو یہ طلبہ یونینز میں چھاترو چھاترو شبر پاکستان کے نہیں بلکہ بنگلا دیش قیادت کی قیادت کا ایک فکری ہیں بلکہ کے لیے دیا کہ
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔