رضوان کو ون ڈے کی کپتانی سے کیوں ہٹایا گیا؟ راشد لطیف نے بڑا دعویٰ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پاکستان کے سابق کرکٹر راشد لطیف نے محمد رضوان کو ون ڈے کپتانی سے ہٹائے جانے سے متعلق حیران کن دعویٰ کیا ہے۔حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے شاہین آفریدی کو پاکستان کی ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے اور اس سے قبل محمد رضوان ون ڈے ٹیم کی کپتانی کررہے تھے۔سوشل میڈیا پر سابق کپتان راشد لطیف کا ایک صحافی کو دیا گیا انٹرویو وائرل ہورہا ہے جس میں راشد لطیف محمد رضوان کو کپتانی سے ہٹائے جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’ محمد رضوان نے فلسطین کا جھنڈا اٹھالیا تو کیا آپ اس کو کپتانی سے ہٹادیں گے؟ راشد لطیف کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال سے یہ مائنڈ سیٹ آگیا ہے کہ ایک اسلامی ملک کا کپتان غیر اسلامی کپتان ہوگا‘۔سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ ’قومی ٹیم کے وائٹ بال ہیڈکوچ مائیک ہیسن کی 5 سے 6 لوگوں کی ٹیم ہے، مائیک ہیسن کو ڈریسنگ روم میں یہ کلچر پسند نہیں آتا، ان لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آرہا‘۔ راشد لطیف نے کہا کہ ’ جب انضمام الحق ، ثقلین مشتاق ، سعید انور ٹیم کا حصہ تھے اس وقت ہمیں ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا‘۔واضح رہے کہ 2023 کے ورلڈ کپ کے دوران محمد رضوان نے سری لنکا کے خلاف کامیابی کو ’غزہ کے بھائیوں اور بہنوں‘ کے نام کیا تھا۔دوسری جانب رواں برس پی ایس ایل کی ٹیم ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ہی فلسطین کے بچوں کی امداد کیلئے ملتان سلطانز کے ہر چھکے اور ہر وکٹ پر 1 لاکھ روپے کی رقم فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ کو عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محمد رضوان کپتانی سے راشد لطیف
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔