چینی سائنسدانوں نے 9000 گھنٹے چلنے والی لیتھیئم بیٹری ایجاد کرلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
چینی سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کی لیتھیئم بیٹری متعارف کروا دی ہے جو 9 ہزار گھنٹوں تک محفوظ طریقے سے چل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٰالیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں سے متعلق بڑا دعوی
اس پیشرفت کو لیتھیئم بیٹری ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں اور بجلی کے گرڈ جیسے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے نظاموں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
بیٹری فیل ہونے کی عام وجوہاتروایتی لیتھیئم میٹل بیٹریاں اگرچہ زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ان میں لیکج، آگ لگنے اور خطرناک سوئی نما دھات کے ڈھانچے بننے جیسے مسائل پائے جاتے ہیں جو بیٹری کی محفوظ کارکردگی اور زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
نیا حل: جدید الیکٹرولائٹستحقیقی جریدے جرنل آف دی امریکن کیمکل سوسائٹی میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق چینی ماہرین نے ایک نئی قسم کے الیکٹرولائٹز متعارف کروائے ہیں جنہیں ’ڈیپ یوٹیکٹک جیل الیکٹرولائٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ فلورینیٹڈ امائیڈز پر مبنی ہیں جو الیکٹران کھینچنے والی خاصیت رکھتے ہیں اور ان کی تھرمل استحکام بھی بہت بہتر ہے۔
سائنسدانوں کی وضاحتتحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر لیو کے مطابق ہم نے فلورینیٹڈ امائیڈز پر مبنی کئی ڈیپ یوٹیکٹک جیل الیکٹرولائٹس تیار کیے ہیں جن میں بہتر انٹرفیس استحکام، سائیکلنگ ڈیو ربیلٹی، اور تھرمل سیکیورٹی حاصل کی گئی ہے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ بیٹریاں ڈھائی ہزار چارج سائیکلز کے بعد بھی 80 فیصد سے زائد صلاحیت برقرار رکھتی ہیں اور 80 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر بھی 300 سائیکلز تک پرفارمنس قائم رکھتی ہیں۔
مستقبل کی طرف اہم قدمتحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ نیا نظام نہ صرف لیتھیئم دھات کی خطرناک ساخت کو بننے سے روکتا ہے بلکہ اس سے زیادہ کمپیکٹ اور پائیدار بیٹری سسٹم کی تشکیل بھی ممکن ہو گئی ہے۔
ننکائی یونیورسٹی کے سائنسدان تیانفی لیو نے کہا کہ یہ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح باریک مولیکیولر ڈیزائن بیٹری ڈیویلپمنٹ کے کئی مسائل کو ایک ساتھ حل کر سکتا ہے۔
جبکہ تحقیق کے ایک اور مصنف کائی ژانگ نے کہا کہ یہ حکمت عملی بنیادی کیمسٹری کو حقیقی دنیا کی ضرورتوں سے جوڑتی ہے اور اگلی نسل کے الیکٹرولائٹ ڈیزائن کے لیے ایک نقشہ فراہم کرتی ہے۔
عملی فوائد: ای وی اور پاور گرڈزیہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں الیکٹرک وہیکلز، اسٹوریج سسٹمز اور دیگر توانائی کے بڑے نظاموں میں زیادہ محفوظ اور طویل عرصے تک چلنے والی بیٹریوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 ہزار گھنٹے چلنے والی بیٹری چینی سائنسدان لیتھیئم بیٹری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چینی سائنسدان لیتھیئم بیٹری لیتھیئم بیٹری
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔