پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر دوبارہ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد تعینات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر—فائل فوٹو
حکومتِ پاکستان نے ممتاز ماہرِ تعلیم، معروف سائنس دان اور تمغۂ امتیاز کے حامل پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر کو ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد تعینات کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وہ 5 سالہ مدت کے لیے اپنے فرائض انجام دیں گے۔
ڈاکٹر راحیل قمر پاکستان کے پہلے ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) پروفیسر ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سائنسی پالیسی کے فروغ میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔
وہ بایو کیمسٹری اور مولیکیولر جینیٹکس کے ممتاز محقق ہیں، جن کی تحقیق پاکستانی آبادیوں میں جینیاتی امراض کے اسباب اور ان کے حل پر مرکوز ہے۔
اپنے گزشتہ دورِ قیادت میں ڈاکٹر راحیل قمر نے کامسیٹس یونیورسٹی کو جدید تحقیق، اختراع اور عالمی اداروں سے اشتراک کے میدان میں نمایاں مقام تک پہنچایا۔
ان کے اقدامات سے یونیورسٹی کے تحقیقی معیار، بین الاقوامی درجہ بندی اور طلبہ کی سائنسی استعداد میں نمایاں بہتری آئی۔
ڈاکٹر راحیل قمر نے اپنی اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی آف پشاور اور یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس (امریکا) سے حاصل کی، وہ برطانیہ اور امریکا میں تحقیقاتی منصوبوں پر کام کرنے کے بعد وطن واپس آئے اور پاکستانی تعلیمی اداروں میں سائنسی تحقیق کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وہ اس وقت اسلامی تنظیم برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (ICESCO) میں سائنسی و تکنیکی تعاون کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ترجمان کامسیٹس یونیورسٹی سردار نصیر احمد کے مطابق ڈاکٹر راحیل قمر کی دوبارہ تعیناتی ناصرف یونیورسٹی بلکہ پاکستان کے تعلیمی و تحقیقی مستقبل کے لیے خوش آئند فیصلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر راحیل قمر کی قیادت میں یونیورسٹی نے ہمیشہ تحقیق، اختراع اور بین الاقوامی روابط کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور ان کا تمغۂ امتیاز ان کی علمی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کامسیٹس یونیورسٹی ڈاکٹر راحیل قمر یونیورسٹی ا میں نمایاں
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔