ڈیجیٹل ویل بِنگ کی سمت نیا قدم، یوٹیوب کا ’شارٹس ٹائمر‘ فیچر متعارف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
یوٹیوب نے اپنے شورٹس صارفین کے لیے ایک نیا ٹائمر فیچر متعارف کرایا ہے جو صارفین کو ویڈیوز دیکھنے میں صرف کیے گئے وقت کو منظم کرنے میں مدد دے گا۔
اس فیچر کے تحت صارفین اپنی روزانہ کی ویڈیو دیکھنے کی حد مقرر کر سکیں گے۔ جب مقررہ وقت مکمل ہو جائے گا تو یوٹیوب پر ایک پوپ اپ نوٹیفکیشن ظاہر ہوگا جو شارٹس کی اسکرولنگ کو روک دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب کا نیا ڈیٹیکشن ٹول، تخلیق کاروں کو ڈیپ فیکس سے بچائے گا
تاہم، صارف اگر چاہے تو اس الرٹ کو نظر انداز بھی کر سکتا ہے، یہ فیچر سب سے پہلے رواں سال کے آغاز میں اینڈرائیڈ اتھارٹی نے دریافت کیا تھا۔
YouTube is adding an timer for the Shorts feed to curb doomscrolling https://t.
— TechCrunch (@TechCrunch) October 22, 2025
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صارفین کو صحت مند دیکھنے کی عادات اپنانے کی ترغیب دینا اور اسکرین ٹائم میں کمی لانا ہے۔
الفابیٹ کمپنی کی ملکیتی ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے مزید تصدیق کی ہے کہ 2026 میں اس فیچر کے لیے والدین کے کنٹرول کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ بچے ان الرٹس کو خود سے بند نہ کر سکیں۔
مزید پڑھیں: ’اب ہم جیسوں کا کیا بنے گا‘، معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ اے آئی سے خوفزدہ
یہ نیا اقدام یوٹیوب کے پہلے سے موجود ڈیجیٹل ویل بی انگ ٹولز جیسے ٹیک آ بریک اور بیڈ ٹائم ریمائنڈر کی توسیع ہے، جو صارفین کو مخصوص وقت یا رات کے کسی مقررہ حصے میں ویڈیوز دیکھنا بند کرنے کی یاددہانی کراتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیچرز صارفین کی زندگی میں توازن پیدا کرنے میں مددگار ہیں، تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ چونکہ یہ الرٹس اختیاری ہیں، اس لیے ان کا اسکرین ٹائم میں حقیقی کمی پر زیادہ اثر نہیں ہوتا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا بھر میں 2 ہزار سے زائد مقدمات سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر کیے گئے ہیں.
مزید پڑھیں: یوٹیوب کا ڈونلڈ ٹرمپ سے مقدمہ نمٹانے کے لیے 24.5 ملین ڈالر کی ادائیگی پر اتفاق
جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز نے جان بوجھ کر نشہ آور خصوصیات متعارف کرائیں جو بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
یوٹیوب کا یہ نیا ٹائمر فیچر بظاہر کمپنی کی اس کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صارفین کی ذہنی صحت کے تحفظ اور پلیٹ فارم پر طویل المدتی مصروفیت کے درمیان توازن قائم کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الفابیٹ پلیٹ فارم پوپ اپ سوشل میڈیا صارفین نوٹیفکیشن ویڈیو شیئرنگ یوٹیوب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الفابیٹ پلیٹ فارم پوپ اپ سوشل میڈیا صارفین نوٹیفکیشن ویڈیو شیئرنگ یوٹیوب یوٹیوب کا کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی