data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟ ایک تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق مشہور اے آئی اسسٹنٹس جن میں چیٹ جی پی ٹی، جیمینی، کوپیلوٹ اور پرپلیکسٹی شامل ہیں خبروں کی فراہمی میں درستی اور اعتبار کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔

مطالعہ میں انکشاف ہوا کہ نمایاں اے آئی پلیٹ فارمز کی 80 فیصد سے زائد خبروں میں غلطیاں ہوتی ہیں یا وہ نامکمل معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں۔

اس مطالعے میں 14 مختلف زبانوں میں ان اے آئی سسٹمز کی کارکردگی، درست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت، رائے اور حقیقت میں فرق کرنے کی اہلیت کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق مجموعی طور پر 45 فیصد جوابات میں کم از کم ایک بڑی غلطی پائی گئی جبکہ 81 فیصد جوابات میں کسی نہ کسی قسم کا مسئلہ موجود تھا۔

رپورٹ کے مطابق تہائی اے آئی اسسٹنٹس نے ماخذ سے متعلق سنگین غلطیاں کیں جن میں غلط یا گمراہ کن حوالہ جات اور غلط انتساب شامل تھے۔

مطالعے میں بتایا گیا کہ گوگل کے اے آئی اسسٹنٹ جیمینی کے 72 فیصد جوابات میں ماخذ سے متعلق بڑی خامیاں موجود تھیں جب کہ دیگر تمام اسسٹنٹس میں یہ شرح 25 فیصد سے کم رہی۔

خبروں کے درست ہونے کے حوالے سے بھی مسائل سامنے آئے۔ تحقیق کے مطابق تمام اے آئی اسسٹنٹس کے تقریباً 20 فیصد جوابات میں پرانی یا ناقص معلومات شامل تھیں۔

اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ غلط یا گمراہ کن معلومات کے مسئلے کو حل کرنے پر کام کر رہے ہیں جو عموماً ناکافی ڈیٹا یا غلط سیاق و سباق کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

یہ تحقیق 18 ممالک کی 22 عوامی نشریاتی اداروں کے تعاون سے کی گئی جن میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، اسپین، یوکرین اور امریکا شامل ہیں۔

ای بی یو کے میڈیا ڈائریکٹر ژاں فلیپ ڈی ٹینڈر کا کہنا تھا کہ جب لوگ نہیں جانتے کہ کس پر بھروسہ کریں تو وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے اور یہی رویہ جمہوری شمولیت کے لیے خطرناک ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ اے آئی کمپنیوں کو خبروں کی درستی یقینی بنانے اور قابل اعتبار نیوز سمریز فراہم کرنے کے لیے جوابدہ بنایا جائے تاکہ عوام کو قابل بھروسہ معلومات میسر آئیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیصد جوابات میں کے مطابق اے آئی

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق