وزیراعظم آئندہ ہفتے 3روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
وزیراعظم آئندہ ہفتے 3روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے WhatsAppFacebookTwitter 0 20 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم شہبازشریف آئندہ ہفتے 3روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے،اعلی سیاسی و عسکری قیادت بھی وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ ہوگی،وزیراعظم فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو کانفرنس سے خطاب کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف آئندہ ہفتے 3روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے۔ اعلی سیاسی و عسکری قیادت بھی وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ ہوگی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم سعودی عرب کی اعلی قیادت سے ملاقات کریں گے،وزیراعظم فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو کانفرنس سے خطاب کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجدہ میں پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے زیر اہتمام سانحۂ کارساز کے شہداء کے لیے دعائیہ تقریب جدہ میں پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے زیر اہتمام سانحۂ کارساز کے شہداء کے لیے دعائیہ تقریب کسی کو پسندیدہ بندہ، کسی کو رشتےدار لاناہے‘،جسٹس محسن اختر کیانی کےسنیارٹی سے متعلق اہم ریمارکس پاک فوج کے دباؤ کی وجہ سے پاک افغان مذاکرات ممکن ہوئے، پختونخوا کے عوام کی رائے سپر ٹیکس؛ سپریم کورٹ میں ٹیکس پر سینیٹ کی تجاویز اور قومی اسمبلی کے اختیارات پر بحث سنگجانی جلسے پر درج مقدمات؛ عمر ایوب، زرتاج گل سمیت دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری انسداد دہشتگری عدالت کا علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہبازشریف
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز