فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) تعینات کرنے کی سمری منظوری کے بعد ایوان صدر بھجوا دی ہے، یہ اہم قدم ملکی دفاعی ڈھانچے میں مضبوطی اور قیادت کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
سمری کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے اور ان کی یہ تعیناتی پانچ سال کے لیے کی گئی ہے، اس کا مقصد نہ صرف آرمی اسٹاف کی قیادت کو مضبوط بنانا ہے بلکہ سی ڈی ایف کے حساس قومی دفاعی کردار کو بھی مستحکم کرنا ہے۔
وزیراعظم نے اس کے علاوہ چیف آف ایئر سٹاف، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی بھی منظوری دے دی ہے، اس توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت ملازمت کے مارچ 2026 میں مکمل ہونے پر ہوگا، جس سے فضائی دفاع کی قیادت میں استحکام برقرار رہے گا۔
یہ اقدامات پاکستان کے دفاعی نظام میں قیادت کے تسلسل کو یقینی بنائیں گے اور آرمی، ایئر فورس اور دیگر دفاعی اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ کریں گے، فیلڈ مارشل کے بطور سی ڈی ایف کردار کے تحت تمام سروسز کے سربراہان کو مربوط طریقے سے قومی دفاع اور سلامتی کی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔
یہ فیصلہ ملکی دفاعی قیادت میں شفافیت اور مضبوطی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ملک میں سی ڈی ایف کا عہدہ موجود نہیں تھا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس عہدے پر فیلڈ مارشل کے طور پر بطور پہلے رہنما کے طور پر ذمہ دار ہوں گے، جس سے قومی دفاعی حکمت عملی میں ہم آہنگی اور مربوط اقدامات ممکن ہوں گے۔
یہ تعیناتیاں اس وقت سامنے آئیں جب ملکی سکیورٹی اور دفاعی امور میں ہم آہنگ قیادت کو یقینی بنانے کی ضرورت زیادہ تھی، اور حکومت نے اس حوالے سے قانونی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق یہ اقدامات کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سی ڈی ایف چیف آف
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز