اترپردیش میں حلال مصنوعات کی فروخت پر پابندی، آر ایس ایس کی صد سالہ تقریت میں اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
وزیراعلٰی نے کہا کہ جب اپوزیشن پارٹیوں نے مندر کی تعمیر پر سوال اٹھایا تو آر ایس ایس کے رضاکار لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کرنے کے بعد بھی پُرعزم رہے، آر ایس ایس کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ایودھیا میں ایک شاندار رام مندر کھڑا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش کے وزیراعلٰی یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھپور میں منعقدہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں بڑا بیان دیا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حلال سے تصدیق شدہ مصنوعات نہ خریدیں۔ یوگی نے واضح طور پر کہا کہ اترپردیش کی بی جے پی حکومت نے اس طرح کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ بقول انکے اس سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال دہشت گردی، جبری تبدیلی مذہب اور لو جہاد جیسی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں یوگی نے کہا کہ جب بھی آپ کوئی چیز خریدیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس میں حلال سرٹیفیکیشن نہ ہو۔ یوگی نے دعویٰ کیا کہ صابن، کپڑوں اور ماچس جیسی اشیاء کو بھی اب حلال کا لیبل لگایا جا رہا ہے، جس سے سالانہ 25,000 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے، حالانکہ اس سرٹیفیکیشن کی کوئی سرکاری شناخت نہیں ہے۔
اسی تقریب میں انہوں نے "سیاسی اسلام" کو ملک کے لئے ایک بڑا نظریاتی خطرہ بھی قرار دیا۔ یوگی نے کہا کہ تاریخ میں برطانوی اور فرانسیسی نو آبادیاتی نظام پر تو چرچا ہوتی ہے، لیکن سیاسی اسلام کو نظرانداز کیا گیا ہے، جبکہ اس نے سناتن دھرم کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج، گرو گوبند سنگھ، مہارانا پرتاپ، اور مہارانہ سانگا جیسے جنگجوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سب نے سیاسی اسلام کے خلاف جنگیں لڑی، لیکن تاریخ میں اس پہلو کو بہت کم جگہ دی گئی ہے۔ یوگی نے رام مندر کی تعمیر میں آر ایس ایس کے رول کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن پارٹیوں نے مندر کی تعمیر پر سوال اٹھایا تو آر ایس ایس کے رضاکار لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کرنے کے بعد بھی پُرعزم رہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ایودھیا میں ایک شاندار رام مندر کھڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آر ایس ایس کی نے کہا کہ انہوں نے یوگی نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔