لاہور کے تاریخی کرشنا مندر میں دیوالی کی تقریب مذہبی رواداری کی مثال بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
لاہور:
روشنیوں اور رنگوں کا تہوار دیوالی لاہور کے تاریخی کرشنا مندر میں اپنی پوری چمک دمک کے ساتھ منایا گیا۔
متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر اہتمام ہونے والی اس تقریب میں ہندو برادری کے ساتھ مسلم، سکھ اور مسیحی برادری نے بھی شرکت کی اور دیوالی کی خوشیوں میں شریک ہو کر ہندو برادری کو مبارک باد پیش کی۔
دیوالی کے موقع پر کرشنا مندر کو برقی قمقموں، رنگین لڑیوں اور تازہ پھولوں سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ مندر میں روشنی، خوشبو اور عقیدت کا حسین امتزاج موجود تھا، جو امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دے رہا تھا، دیوالی کے موقع پر شری رام کی پوجا کی گئی اور بھجن گائے گئے۔
کرشنا مندر کے پجاری پنڈت کاشی رام نے دیوالی کی تاریخی اور مذہبی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دیوالی روشنی، امید اور نئی شروعات کا تہوار ہے۔ یہ اندھیروں پر روشنی اور برائی پر نیکی کی جیت کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو برادری کو اپنے مذہبی تہوار آزادی کے ساتھ منانے کا موقع حاصل ہے جو مذہبی رواداری کی روشن مثال ہے۔
کاشی رام نے بتایا کہ یہ دن شری رام کی جلاوطنی کے بعد اپنی بیوی سیتا کے ہمراہ ایودھیا واپسی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ شری رام اپنی بیوی سیتا کو راون کے چنگل سے آزاد کروا کر واپس لوٹے تھے اور انہوں نے راون کو شکست دی تھی۔
تقریب میں شریک ہندو نوجوان شیوا شرما نے کہا کہ ہم پاکستان میں پوری مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے تہوار مناتے ہیں، حکومت کی سرپرستی اور دیگر برادریوں کی شرکت ہمارے لیے باعثِ خوشی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہ صرف اپنے تہوار مناتے ہیں بلکہ مسلمانوں، سکھوں اور مسیحیوں کے تہواروں میں بھی شریک ہو کر ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہوتے ہیں۔
ہندو خاتون آرتی دیوی نے کہا کہ دیوالی ہمارے لیے خوشی، امید اور اتحاد کا پیغام ہے۔ پاکستان میں ہمیں اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے اور تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہیں، جو معاشرتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے ہندو برادری کے رہنماؤں کے ساتھ دیوالی کا کیک کاٹا اور تحائف بھی پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کا احترام ریاستی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ دیوالی امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی مثال ہے۔
دیوالی کے موقع پر پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ ہندو برادری کے نمائندوں نے حکومتِ پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہم آہنگی کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔