پروٹیز کی پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری، آصف کے ڈیبیو اننگز میں 5 شکار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کے 333 رنز کے جواب میں جنوبی افریقا کی پہلی اننگز جاری ہے اور مہمان ٹیم نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 235 رنز بنا لیے ہیں۔راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز جنوبی افریقا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 185 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کیا لیکن آصف آفریدی نے بغیر کسی رن کے اضافے کے ڈیولڈ بریوس کو پویلین بھیج دیا۔اس کے بعد آصف آفریدی نے کائل ویرینے اور سیٹ بیٹر ٹریسٹان اسٹبس کو بھی آؤٹ کر کے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 5 شکار مکمل کیے۔ مارکو جینسن کو نعمان علی نے ایل بی ڈبلیو کیا۔خیال رہے کہ پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 333 رنز اسکور کیے تھے جس میں کپتان شان مسعود نے 87 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی جبکہ سعود شکیل نے 66 اور عبداللہ شفیق نے 57 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ جنوبی افریقا کی جانب سے کیشوو مہاراج نے 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پہلی اننگز
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔