امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل سے متعلق خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی ’ننھے بچے کی نگرانی‘ کے لیے نہیں بلکہ موجودہ صورتِ حال پر نظر رکھنے کے لیے وہاں موجود ہے، کیونکہ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔

ان کے اس بیان سے قبل حالیہ دنوں میں امریکی حکام کی اسرائیل آمد کا سلسلہ جاری ہے، جن میں جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سرمایہ کار جیرڈ کُشنر شامل ہیں، جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جمعرات کو اسرائیل پہنچنے والے ہیں۔

اس تسلسل نے اسرائیلی میڈیا اور مبصرین کو یہ تاثر دینے پر مجبور کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو براہِ راست کنٹرول کر رہا ہے یا ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا اسرائیل میں 200 فوجی اہلکار بھیجنے کا فیصلہ

بدھ کی صبح اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل باہمی شراکت دار ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کے تابع۔

امریکی نائب صدر نے وضاحت کی کہ امریکا کسی ماتحت ریاست کا خواہاں نہیں، اور اسرائیل ایسی ریاست نہیں ہے۔

’ہم کسی کلائنٹ ریاست کے خواہاں نہیں، اور اسرائیل وہ بھی نہیں ہے، ہم ایک شراکت داری چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی ’ہمارا معاملہ نہیں‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور اسرائیل کے دوروں کا مطلب ’یہ نہیں کہ آپ کسی ننھے بچے کی طرح نگرانی کریں۔ اس کا مطلب نگرانی اس معنی میں ہے کہ بہت سا کام باقی ہے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ جب بات اسرائیل کی سلامتی کی ہو تو ہم وہی کرتے ہیں جو ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ امریکا اس خطے میں دیگر مفادات بھی رکھتا ہے، اور جہاں ہم اس کے لیے لچک دکھا سکتے ہیں، وہ اچھا ہے، کیونکہ ایک مضبوط امریکا ہمارے مفاد میں ہے۔

مزید پڑھیں:

کئی موجودہ اور سابقہ اسرائیلی عہدہ داروں نے فلسطین پر قبضہ سنبھالنے والی فورس میں ترکیہ کو شامل کرنے کے امریکی منصوبے کی مخالفت ظاہر کی ہے کیونکہ ترکیہ ایران کا حلیف ہے۔

گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل اور حماس نے فائرنگ کا تبادلہ کیا، اور اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ میں تقریباً 44 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جن میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد شامل تھے جب ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔

اسرائیل کے مطابق یہ ایک ایسے حملے کا ردِ عمل تھا جس میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں:

جے ڈی وینس نے منگل کو میڈیا سے، وٹکوف اور کشنر کے ساتھ، اسرائیل میں نئے سول ملٹری کوآپریشن سینٹر سے امن معاہدے کے بارے میں بھی خطاب کیا۔

وینس نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے ایسی جگہ پہنچنا ممکن ہوگا، جہاں یہ امن برقرار رہے گا۔

’اگر حماس تعاون نہیں کرتی تو جیسا کہ امریکی صدر نے کہا ہے، حماس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا جے ڈی وینس نائب صدر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا جے ڈی وینس اور اسرائیل جے ڈی وینس کہ امریکا وینس نے کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام