’چین نے ہمارے ساتھ سخت رویہ اپنایا‘ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 155 فیصد ٹیرف عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا یکم نومبر سے چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 155 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ وہ چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، لیکن چین کے غیر منصفانہ تجارتی رویے نے امریکا کو سخت تجارتی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
’چین کے خلاف اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں‘ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا ’فی الحال، یکم نومبر سے چین پر تقریباً 155 فیصد ٹیرف عائد ہو جائے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس دباؤ کو برداشت کر پائیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: چین کا امریکا کے خوشامدی ممالک کو سزا دینے کا اعلان
ٹرمپ نے مزید کہا ’میں چین کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہوں، مگر چین نے برسوں سے ہمارے ساتھ بہت سخت رویہ اپنایا ہے کیونکہ ہمارے پچھلے صدور کاروباری لحاظ سے سمجھدار نہیں تھے۔ انہوں نے چین اور دوسرے ملکوں کو ہم سے فائدہ اٹھانے دیا۔‘
’ٹیرف قومی سلامتی کا ذریعہ ہیں‘ٹرمپ نے اپنی سابقہ تجارتی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی ٹیرف کی بنیاد پر طے پائے۔
ان کے مطابق ’میں نے یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ بہترین تجارتی معاہدے کیے۔ یہ سب قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔ ٹیرف کی بدولت امریکا کو کھربوں ڈالر حاصل ہو رہے ہیں، جن سے ہم اپنا قرضہ اتار سکیں گے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ واشنگٹن کی نئی ’سیکنڈری ٹیرف‘ حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو اُن ممالک کے خلاف اپنائی جا رہی ہے جو روس کی توانائی تجارت کے ذریعے بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ میں روس کی مدد کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکا نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جب کہ اب یہ پالیسی چین تک وسعت اختیار کر رہی ہے جو روسی خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ Truth Social پر ایک اور اعلان میں کہا کہ چین پر موجودہ ٹیرف کے علاوہ مزید 100 فیصد نیا ٹیرف یکم نومبر 2025 سے نافذ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے چین اور بھارت پر روسی تیل خریدنے پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے، ٹرمپ کا یورپی یونین سے مطالبہ
انہوں نے لکھا ’چین کی غیر معمولی اور جارحانہ تجارتی پالیسی کے جواب میں، امریکا یکم نومبر 2025 سے چین پر 100 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرے گا۔ اسی دن سے تمام اہم سافٹ ویئر پر برآمدی پابندیاں (Export Controls) بھی نافذ کی جائیں گی۔‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے دنیا کے تمام ممالک کو ایک ’انتہائی جارحانہ خط‘ بھیجا ہے جس میں اس نے تقریباً ہر پیداوار پر ایکسپورٹ کنٹرول نافذ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی تجارت میں ایک غیر سنا مظہر ہے اور اخلاقی لحاظ سے شرمناک طرزِ عمل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا چین ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا چین ڈونلڈ ٹرمپ فیصد ٹیرف عائد یکم نومبر کے ساتھ چین پر کہا کہ چین کے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔