ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جارہے ہیں،چئیرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251207-01-7
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے ہیں جبکہ ہمارے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں اور ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عوام کو بتانا ضروری ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے دیگر
رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے ہیں، کچھ باتوں کا عوام کو بتانا ضروری ہے کیوںکہ ہمارے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عوام کو بتانا ضروری ہے، 180 سیٹوں کے ساتھ 91 سیٹوں پر بیٹھے، ہمارے گھر کی سیٹ چلی گئی، بانی چیئرمین نے ہمیشہ کہا کہ ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری، جنگ کے وقت میں ہم فوج کے ساتھ کھڑے رہے لیکن اس سب کے بعد ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید چیزیں بہتری کی طرف چلی جائیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل کی پریس کانفرنس سے مایوسی اورافسوس ہوا، جو الفاط استعمال کیے گئے وہ نامناسب تھے، ہم یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ شاید لوگ لڑوانا چاہ رہے ہیں، اپنی انا کو جانے دینا ہوگا، ایک دوسرے کو جگہ دینا ہو گا، ملاقات ہو نہیں رہی اور مقدمات نہیں لگ رہے ہیں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس خطے میں خون ہے، بارود ہے، اسلحہ ہے لیکن فلاح نہیں ہے، اس ملک میں بار بار دعوے کیے گئے ہیں کہ اس ملک کو جمہوریت راس نہیں آتی، ہر بار جابر ملک کو پہلے سے کمزور چھوڑ کر گیا، پاکستان آج کہاں کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایسا حملہ کیا گیا ہے، جس کی آئین اور قانون میں مثال نہیں ملتی، پاکستان واحد ملک ہے جہاں آئین ہے، کچھ اصول ہیں جو پوری دنیا نے اپنا لیے ہیں لیکن پاکستان پوری دنیا سے پیچھے ہے، کیسے ایک افسر آزاد عدلیہ کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟رہنما پی ٹی آئی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں مخصوص نشستیں دیں لیکن اس کے بعد اس کو ایک ضلعی عدالت بنا دیا گیا، ایمان مزاری اور ہادی وکلا ہیں ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، کیا پاکستان اس لیے بنا تھا؟انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے عسکری قیادت کو ہمیشہ کہا کہ آپ سیاست میں شریک نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بیانیہ لے کر جا رہے تھے کہ عمران خان کو رہا کرو اب ہم کہتے ہیں کہ ملاقات کرواؤ، جو حالات چل رہے ہیں ان سے جمہوریت کی ایسی تیسی ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ہم جانتے ہیں کہ اس ملک پر کون قابض رہا ہے، اس ترقی کا کیا کرنا ہے جہاں آپ کے بیٹے کو روزگار نہیں ملتا، ہمیں عوام دوست سیاست کرنی ہے، عوام جانتے ہیں کون عوام دوست سیاست کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے جو ملک کو فلاح کی طرف لے جا سکتی ہے، ہمارے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی، اداروں اور عوام کو ساتھ چلنا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں انتشار ہو۔اسد قیصرنے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے عمران خان سیکورٹی رسک ہے تو مذمت کرتا ہوں،ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت عوام کی حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، ہمارے صوبے میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، ہم مطالبہ کریں گے کہ آپ وہ الفاظ واپس لیں، پورا صوبہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بے عزتی ہوئی ہے۔ ہماری سیٹیں بانٹ کر دوسری پارٹی کو دی گئیںہماری سینئر لیڈرشپ کوٹ لکھپت جیل میں ہے، ہمارے 64 ہزار افراد کے خلاف ایف آئی آرز ہوئی ہیں، 34 ہزار افراد گرفتار ہوئے ہیں اور پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے قومی کانفرنس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ا جا رہے ہیں پی ٹی ا ئی عوام کو ہیں ان ہیں کہ
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔