ہم کسی بھی صورت میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے موقف پر عمل نہیں کریں گے: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے موقف پر عمل نہیں کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پارٹی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گی، تاہم عوام کو وہ حقائق ضرور بتانا ضروری ہیں جو ان کے ساتھ پیش آئے ہیں اور جن پر ان کے خلاف الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں۔
گوہر علی خان نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بتایا کہ آج پی ٹی آئی کی غیر معمولی پریس کانفرنس کا مقصد عوام کو سچائی سے آگاہ کرنا ہے، پارٹی کی پوزیشن 180 سیٹوں میں سے 91 سیٹوں پر تھی، لیکن پھر بھی پارٹی کے لیے اہم سیٹیں ضائع ہو گئیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ کہتے رہے کہ ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری ہے اور جنگ کے دوران پارٹی ہمیشہ فوج کے ساتھ کھڑی رہی، لیکن موجودہ حالات کے بعد انہیں امید تھی کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کل کی پریس کانفرنس میں استعمال شدہ الفاظ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیانات نامناسب تھے اور بعض لوگ حالات کو لڑانے کے لیے کشمکش پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی میں ایک دوسرے کی جگہ دینے اور اپنی انا کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ ملاقاتیں ممکن ہوں اور بلاوجہ مقدمات کی فضا ختم کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔