کچے کے علاقے میں 72 ڈاکو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شکارپور میں سندھ حکومت کی جانب سے ڈاکوؤں کی سرینڈر پالیسی 2025 کے تحت ایک اہم تقریب منعقد ہوئی جس میں کچے کے 72 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔
تقریب پولیس لائن شکارپور میں ہوئی، جہاں ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کا جمع کرایا گیا جدید اسلحہ بھی نمائش کے لیے رکھا گیا، جن میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ایئرکرافٹ گن سمیت دیگر خطرناک ہتھیار شامل تھے۔
پولیس کے مطابق سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کے سروں کی مجموعی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد تھی۔ ان میں بدنام زمانہ نثار سبزوئی کے خلاف 82 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔ اسی طرح لادو تیغانی پر 93 ایف آئی آرز اور 20 لاکھ روپے انعام رکھا گیا تھا۔ دیگر ڈاکوؤں میں سوکھیو، سونارو، جمعو، ملن، گلزار، غلام حسین اور نور دین تیغانی شامل تھے، جن کے خلاف درجنوں مقدمات درج ہیں۔
اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور رینجرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ علاقے میں امن قائم رکھا جائے اور ڈاکوؤں کو پرامن زندگی کا موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ برادریوں کے سربراہوں کے تعاون کے بغیر یہ اقدام ممکن نہیں تھا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا، تاہم ان سے کوئی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ نہیں کی جائے گی۔ حکومت چاہتی ہے کہ وہ پرامن شہری بنیں۔ سندھ حکومت کچے کے لوگوں کو نوکریاں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈز، بچوں کی تعلیم اور بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس موقع پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے، تاہم گھوٹکی کے کچے کا علاقہ ابھی کلیئر نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2012 میں شروع ہونے والی ہنی ٹریپ کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
کراچی:شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں رب میڈیکل کے قریب منگل کی شب ایک تیز رفتار ڈمپر بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گیا تاہم خوش قسمتی سے قریب سے گزرنے والے شہری اور دیگر گاڑیاں بڑے حادثے سے محفوظ رہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈمپر اچانک توازن کھو بیٹھا اور سڑک پر الٹ گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حادثے کے فوراً بعد ڈمپر کا ڈرائیور اور ایک اور شخص موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے ڈمپر کے کلینر کو پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض افراد نے ڈمپر کو آگ لگانے کی کوشش کی تاہم اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور بروقت مداخلت کرتے ہوئے گاڑی کو جلائے جانے سے بچا لیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ حادثہ سڑک پر موجود گہرے گڑھوں اور جاری کھدائی کے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈمپر کا توازن بگڑ گیا اور وہ الٹ گیا۔