اسٹیبلشمنٹ تک رسائی صرف خواجہ آصف کی کیوں ہے؟میاں جاوید لطیف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے سوال اٹھایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تک رسائی صرف خواجہ آصف کو ہی کیوں حاصل ہے؟ کسی اور کو کیوں نہیں؟۔
ا ±ردوپوائنٹ کے پوڈ کاسٹ میں میزبان سید ذیشان عزیز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ بات کرتے ہو کہ خواجہ آصف خود کہتے ہیں کہ انہوں نے 2018ءمیں اس وقت کے آرمی چیف کو کال کی کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے تو پھر ریحانہ ڈار تو بات کریں گی۔
آپ کیوں اس طرح سے رابطہ کرکے بات کرتے ہیں؟ اور یہ رسائی صرف خواجہ آصف کو کیوں حاصل ہے؟ یہ دوسروں کو کیوں حاصل نہیں ہے؟ اور یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔
میاں جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ میں اس حوالے سے بہت کلیئر ہوں کہ خواجہ آصف ہوں یا ہماری پارٹی کے کوئی اور رکن ہوں، ان میں سے جس کسی کا بھی اس قسم کا کردار ہوگا تو وہ ان کی اپنی گردن پر ہوگا، اس کی مسلم لیگ ن ذمہ دار نہیں ہوگی خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
ہماری جماعت اور نظریہ تو صرف نوازشریف ہیں، اگر انہوں نے ایسا کوئی کام کیا ہے تو وہ مجھے حوالہ دے کر بتائیں۔انٹرویو کے دوران جب ان سے موجودہ وزیردفاع کے ماضی کے ایک اسمبلی بیان سے متعلق سوال کیا گیا تو ن لیگ کے سینئر رہنماءنے جواب دیا کہ ’آپ جس بیان کی بات کر رہے ہیں میں اس وقت اسمبلی کا رکن نہیں تھا۔
اگر میں پارلیمنٹ میں ہوتا تو یقیناً میں آگے سے سوال اٹھاتا اور اسی وقت اس حوالے سے بات کرتا لیکن میں اس فورم کا حصہ نہیں تھا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔