Jasarat News:
2026-07-24@06:06:02 GMT

’’تصویر کے پیچھے کی سیاست‘‘

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹائم میگزین کی حالیہ اشاعت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اْس پر برہمی دراصل دو الگ مگر باہم مربوط حقیقتوں کا سنگم ہے: ایک وہ بیّن خبروں کا کارنامہ جسے میگزین نے صدر کے لیے سفارتی کامیابی قرار دیا، اور دوسری وہ بصری نمائندگی جس نے سیاسی علامت کے طور پر ایک موثر تاثر پیدا کیا۔ ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پر اس تصویر کی سخت تنقید کی اور کہا کہ تصویر میں ان کے بال ’’غائب‘‘ کر دیے گئے اور سر کے اوپر ایک چھوٹا سا تیرتا ہوا تاج دکھایا گیا، ایک بیان جس نے نہ صرف ذاتی ناراضی کی تصویر کھینچی بلکہ میڈیا، شناخت اور طاقت کی روایتی کشمکش کو بھی منظرِ عام پر لایا۔

بنیادی معاملہ یہ ہے کہ میگزین نے اسی شمارے میں غزہ کے متعلق جس معاہدے اور رہائی کے عمل کو ٹرمپ کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا، وہ واقعاتی سطح پر قابل ِ توجہ ہیں، اسرائیل اور حماس کے درمیان روبہ عمل معاہدے کے تحت زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا پہلا مرحلہ طے پایا ہے جسے میگزین نے صدر کے لیے ایک سنگ ِ میل قرار دیا۔ یہ وہی واقعہ ہے جس نے عالمی و علاقائی سیاست میں جھٹکے کے ساتھ مثبت ری ایکشن پیدا کیا، اور امریکی خارجہ پالیسی کو نئی صدارت کی شان میں استوار کرنے کی کوشش دکھائی۔

اس منظرنامے کا تجزیاتی مطالعہ چند پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے، سیاسی علامت نگاری (political imagery) کی طاقت، کسی رہنما کی تصویر صرف شخصی جمالیات یا میڈیا کی خوش صورتی کا معاملہ نہیں رہتی؛ تصویر ایک بیانیہ بناتی ہے، کردار تخلیق کرتی ہے اور عوامی حافظے میں ایک طویل المدت امیج سیل کرتی ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے تصویر پر احتجاج اس لیے معنی خیز ہے کہ وہ خود تصویر سازی کے ماہر ہیں دہائیوں سے میگزین کورز، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی شناخت کو منظم کیا اور اب جب کوئی بظاہر نکھر کر آنے والی سفارتی کامیابی کی تصویر انہیں غیر موافق زاویے سے پیش کرتی ہے تو وہ فوری ردِعمل دیتے ہیں، تاکہ بیانیہ کا کنٹرول دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیں۔

دوسرا، جیو پولیٹیکل اور سیکورٹی پس منظر، اگرچہ یہ معاہدہ فوری انسانی اور سفارتی نتائج لا رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ مستقل امن کی بنیاد رکھتا ہے یا وقتی عارضی سرد مہری ہے۔ علاقائی طاقتوں خصوصاً ایران، قطر، مصر اور سعودی عرب کا رویہ، حماس کے اندرونی ڈھانچے، اور غزہ کے بعد کی بازسازی اور حکمرانی کے سوالات ابھی لاصری ہیں۔ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ معاہدہ وقتی طور پر جنگ بندی اور رہائی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، مگر اس کے دوام کے لیے باہمی اعتماد، معاشی فنڈنگ، اور علاقائی سطح پر نئے سیاسی معاہدوں کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ امریکا کو ایران پالیسی، خلیجی شمولیت، اور ملٹی لیٹرل ڈپلومیسی پر مزید توجہ دینی ہو گی۔

تیسرا، اندرونی امریکی سیاسی منظر: صدر کا تصویر پر غم و غصہ دکھانا اس حقیقت کی نمائندگی بھی کرتا ہے کہ سیاسی لیڈروں کے لیے میڈیا امیج کس حد تک انتخابی اور داخلی سیاست میں مؤثر ہو سکتی ہے۔ بیک وقت جب ٹرمپ کو بین الاقوامی سطح پر نایاب تعریف مل رہی ہے، اْنہیں اندرونِ ملک سخت سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے پارلیمانی کشمکش، وفاقی بجٹ کے مسائل اور میڈیا کے مختلف قطعات میں قطبی نوعیت جو یہ بتاتا ہے کہ بیرونی کامیابی خود بخود داخلی مقبولیت میں ترجمہ نہیں کرتی۔ اس تضاد نے امریکی عوامی رائے، میڈیا کی پالیسی اور حتیٰ کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کے طرز عمل پر اثر ڈالنا ہے۔

چوتھا، معاشی اور عالمی اثرات: عارضی امن اور یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان خطے میں معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے مثبت سگنل دے سکتا ہے خاص طور پر اگر مستقل امن کی جانب اقدامات نظر آئیں تو توانائی، تعمیرات اور ری کنسٹرکشن کے شعبے مستفید ہو سکتے ہیں۔ تاہم، معاہدے کی نازک نوعیت اور ایران جیسی کلیدی قوتوں کا ممکنہ ردِعمل سرمایہ کاروں میں احتیاط پیدا کر سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی مالیاتی مارکیٹس میں اس سے وابستہ عدم استحکام وقتی طور پر جاری رہ سکتا ہے۔

حتمی غور یہ ہے کہ تصویر اور حقیقت کے درمیان کشمکش ہمیشہ سے سیاست کا حصہ رہی ہے۔ ایک طرف اکثریتی بیانیہ جو معاہدے اور اس کے ممکنہ مثبت اثرات کو اُجاگر کرتا ہے، اور دوسری طرف بصری روایت جو لیڈر کے انسانی اور علامتی رُخ کو چیلنج کرتی ہے۔ ٹرمپ کا ردِ عمل محض خود پسندی نہیں بلکہ طاقت کی نمائندگی کے کنٹرول کا ایک سیاسی اشارہ ہے۔ عالمی سطح پر اس تبدیلی کے اثرات تب تک واضح ہوں گے جب تک معاہدے کے تکنیکی، معاشی اور سیکورٹی پہلو عملی شکل اختیار نہ کر لیں۔ اس لیے مطمئن انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ اس مرحلے پر جیتنے والا وہ ہوگا جو حقیقت کو بیانیے سے ہم آہنگ کر سکے چاہے وہ تصویری بیانیہ ہو یا سفارتی ڈپلومیسی۔

آئندہ منظرنامے کے امکانات میں تین راہیں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک یہ کہ معاہدہ مضبوط بنیاد بنا کر خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ڈال دے۔ دوسری یہ کہ عارضی کامیابی محدود اور نازک رہ کر تنازعات کی نئی لہر کو جنم دے اور تیسری یہ کہ معاہدہ سیاسی کیتھارسس کا ذریعہ بن کر دیگر علاقائی کھلاڑیوں کو نئے مذاکرات کے لیے آمادہ کرے۔ امریکا، علاقائی طاقتیں اور عالمی برادری مل کر اگر تعمیری اور شفاف طریقے سے آگے بڑھیں تو پہلا منظرنامہ ممکن ہے ورنہ تصویر پر ناراضی اور حقیقت کی پیچیدگیاں دونوں مل کر پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کریں گی۔

 

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ ہے کہ سکتا ہے کرتی ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی