تاریخ کا فیصلہ کیا؟ مذاکرات یا جنگ؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک بار پھر سیاست دانوں کی طرح دھڑلے سے پریس کانفرنس کی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوںنے کہا کہ دہشت گردی میں اضافے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ اس حوالے سے ایک بیانیہ بنایا جائے گا مگر ایسا بیانیہ کبھی نہ بن سکا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے۔ اگر دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے ہیں تو پھر جنگیں کبھی نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ سرور کونینؐ پھر غزوۂ بدر میں جنگ نہ کرتے۔ (روزنامہ جسارت 11 اکتوبر 2025ء)
اقبال نے کہا تھا:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
مگر پاکستانی جرنیلوں کی تاریخ یہ ہے کہ حریف طاقت ور ہو تو وہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن حریف کمزور ہو تو وہ جنگ پر اصرار کرتے ہیں۔ تاریخ کا پورا سفر ہمارے سامنے ہے۔ اس سفر میں مذاکرات، بات چیت اور مکالمے نے بڑے بڑے تاریخی تغیراّت کو جنم دیا ہے اور جنگ نے بہت کم مسائل کو حل کیا ہے۔ پاکستان کی تخلیق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان کے مطالبے کو قائداعظم جیسا سیاسی رہنما میسر تھا چنانچہ قائداعظم نے حصول پاکستان کے کسی بھی مرحلے پر جنگ و جدل برپا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے انگریزوں سے بھی مکالمہ کیا اور ہندو اکثریت سے بھی گفت و شنید کی۔ قائداعظم 1940ء سے 1947ء تک کے کسی بھی مرحلے پر جنگ کرتے تو پاکستان کی تخلیق ناممکن ہوجاتی۔ چنانچہ قائداعظم نے دلیل کو رہنما بنا کر پاکستان کا مقدمہ لڑا اور انہوں نے تن تنہا یہ مقدمہ جیت کر دکھادیا۔
اس کے برعکس جرنیلوں کی تاریخ یہ ہے کہ وہ طاقت ور حریفوں کی قوت سے لرزہ براندام رہے ہیں۔ جنرل ایوب نے 1965ء میں بھارت سے جنگ لڑی۔ جنرل احمد شریف چودھری کی دلیل کو مان لیا جائے تو جنرل ایوب کو کبھی بھارت کے ساتھ جنگ بندی نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہ انہیں کشمیر کے حصول اور بھارت کی مکمل تباہی تک بھارت کے ساتھ جنگ جاری رکھنی چاہیے تھی کیونکہ ہمارا بیانیہ یہ تھا کہ بھارت جارح ہے مگر جنرل ایوب نے نہ صرف یہ کہ جنگ بندی قبول کرلی بلکہ وہ تاشقند میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بھی بیٹھ گئے۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے نہایت شرمناک انداز میں بھارت کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ ظاہر ہے یہ کام انہوں نے خود نہیں کیا بلکہ ہتھیار ڈالنے کا حکم انہیں جرنیلوں نے دیا تھا۔ جنرل احمد شریف چودھری کی دلیل کو دیکھا جائے تو پاکستان کے 90 ہزار فوجیوں کو بھارت سے لڑتے ہوئے مرجانا چاہیے تھا مگر انہیں بھارت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں تھے۔ لیکن پاکستان کے جرنیلوں نے 90 ہزار فوجیوں سے بھارت کے آگے ہتھیار ڈالوائے۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہوئی کہ جرنیلوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو مجبور کیا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے لیے بھارت سے شملہ میں ’’مذاکرات‘‘ کریں۔ اور ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ میں بھارت سے مذاکرات کیے۔ جنرل احمد شریف چودھری کی دلیل کے مطابق تو یہ ایک شرمناک بات تھی۔
جنرل پرویز مشرف ’’کارگل کے ہیرو‘‘ تھے۔ انہوں نے کارگل ایجاد کیا تھا اور انہوں نے کارگل میں بھارت کے سیکڑوں فوجیوں کو پھنسا دیا تھا۔ مگر کارگل کا یہی ہیرو کچھ عرصے بعد بھارت سے مذاکرات کو بھیک مانگتا ہوا پایا گیا اور بالآخر ایک دن وہ آیا جب وہ آگرہ میں بھارت کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ کرتے ہوئے پائے گئے۔ جنرل احمد شریف چودھری کی دلیل اور اصول کے اعتبار سے یہ یقینا ایک شرمناک منظر تھا۔
جرنیلوں کی ’’بہادری‘‘ اور ’’جنگ پسندی‘‘ کا یہ واقعہ ہمیں ممتاز دانش ور اور جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد نے خود سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ 1980ء کے اوائل میں خانہ کعبہ کے سائے میں جنرل ضیا الحق اور مقبوضہ کشمیر کے رہنمائوں کا ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں جنرل ضیا الحق نے کشمیریوں سے کہا کہ اگر آپ اپنی تحریک کو مسلح بنا لیں اور اسے تحرّک کی بلند سطح پر لے آئیں تو پھر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں فوج داخل کردے گا۔ خورشید صاحب کے بقول جب کشمیریوں نے اپنی تاریخ کے برعکس مسلح جدوجہد شروع کردی اور اسے تحرّک کی بلند سطح پر لے آئے تو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو ان کا وعدہ یاد دلایا۔ اس کے جواب میں جنرل ضیا الحق نے فرمایا کہ ہم کشمیر کے لیے پاکستان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ اس کے برعکس جنرل ضیا الحق بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے اور ان کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات کے 8 ادوار ہوئے۔ اور یہ واقعہ تو کل ہی کی بات ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا ’’خصوصی اسٹیٹس‘‘ ختم کیا تو پاکستان کے دو درجن سے زیادہ صحافیوں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ پاکستان کو فوجی سطح پر کچھ کرنا چاہیے۔ جنرل باجوہ نے جو جواب دیا وہ ہم جیسے ’’لاعلم‘‘ فرد تک پہنچا تو بھارت تک بھی ضرور پہنچا ہوگا کہ جنرل باجوہ نے صحافیوں سے کہا کہ ہمارے پاس تو ٹینکوں میں پٹرول ڈالنے کے بھی پیسے نہیں۔ ہم بھارت سے جنگ نہیں کرسکتے۔ جنرل احمد شریف چودھری اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟۔
پاک امریکا تعلقات کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم پاکستان کو پتھر کے دور میں داخل کردیں گے۔ اس کے جواب میں جنرل پرویز کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں ہم بھی امریکا کو سبق سکھادیں گے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ جنرل پرویز نے امریکا کی دھمکی پر کھڑے کھڑے سارا پاکستان امریکا کے حوالے کردیا۔ ہمیں یاد ہے کہ امریکا نے 2011ء میں سلالہ پوسٹ پر حملہ کرکے پاکستان کے دو درجن فوجیوں کو شہید کردیا۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا مگر پاکستان نے کچھ دنوں کے لیے افغانستان میں امریکا اور ناٹو کی سپلائی لائن کاٹ دی۔ کچھ دنوں کے بعد پاکستان امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔ افسوس کہ اس موقع پر بھی جرنیلوں نے مذاکرات پر جنگ کو ترجیح نہیں دی۔
جرنیلوں کی ’’ایک تاریخ‘‘ تو یہ تھی۔ جرنیلوں کی ’’دوسری تاریخ‘‘ یہ ہے کہ وہ کسی اور کو کیا خود اپنی ہی کمزور قوم کو طاقت کے زور پر بار بار فتح کرتے رہتے ہیں۔ بنگالی قوم کا 56 فی صد تھے۔ چنانچہ انہیں پاک فوج کے اندر 56 فی صد کی سطح پر موجود ہونا چاہیے تھا مگر پاکستانی جرنیلوں نے 1947ء سے 1962ء تک ایک بنگالی کو بھی فوج میں داخل نہ ہونے دیا۔ پنجابی آبادی کا 25 فی صد تھے مگر وہ فوج میں 75 فی صد تھے۔ پشتون آبادی کا 5 فی صد تھے مگر وہ فوج کا 20 فی صد تھے۔ 1962ء کے بعد فوج میں بنگالیوں کو لینے کا عمل شروع ہوا مگر 1971ء میں جب پاکستان دولخت ہوا تو فوج میں بنگالیوں کی موجودگی 8 سے 10 فی صد تھی حالانکہ وہ آبادی کا 56 فی صد تھے۔ 1970ء میں بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہوئے تو شیخ مجیب کی عوامی لیگ اکثریتی پارٹی بن کر ابھر آئی۔ چنانچہ اقتدار شیخ مجیب کو مل جانا چاہیے تھا مگر جنرل یحییٰ خان نے ایسا کرنے کے بجائے بنگالیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جرنیلوں کو ’’دوستوں‘‘ اور ’’اتحادیوں‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ جرنیلوں کو ’’دوستوں‘‘ اور ’’اتحادیوں‘‘ کی نہیں ’’ایجنٹوں‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ 1971ء کے بحران میں جرنیلوں نے البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو اپنا دوست اور اتحادی نہیں ایجنٹ سمجھا۔ ایسا نہ ہوتا تو جرنیل البدر اور الشمس کے نوجوانوں کو مکتی باہنی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑتے۔ مشرقی پاکستان میں بہاریوں کی آبادی نے پاک فوج کا ساتھ دیا مگر جرنیلوں نے انہیں بھی اپنا ’’دوست‘‘ اور ’’اتحادی‘‘ نہیں اپنا ’’ایجنٹ‘‘ سمجھا۔ جرنیل انہیں اپنا ’’دوست‘‘ اور ’’اتحادی‘‘ سمجھتے تو فوج بہاریوں کو کبھی تنہا نہ چھوڑتی اور بہاری آج بھی بنگلا دیش کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی نہ بسر کررہے ہوتے۔ آج جرنیل طالبان کی شکایت کررہے ہیں، طالبان بھی جرنیلوں کی ’’ایجاد‘‘ تھے۔ انہیں تسلیم کرانے کے لیے جرنیلوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کہا تھا کہ یہ ’’ہمارے بچے‘‘ ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ جرنیلوں نے طالبان کو بھی کبھی اپنا ’’دوست‘‘ اور ’’اتحادی‘‘ نہیں سمجھا۔ انہوں نے طالبان کو اپنا ’’ایجنٹ‘‘ سمجھا۔
طالبان کیا پاکستانی جرنیلوں نے گل بدین حکمت یار تک کو اپنا ’’دوست‘‘ اور ’’اتحادی‘‘ سمجھنے کے بجائے اپنا ’’ایجنٹ‘‘ سمجھا۔ چنانچہ تاریخ کے ایک خاص دور میں گلبدین اور پاکستان کے تعلقات بھی خراب رہے۔ بدقسمتی سے جرنیلوں کو پاکستانی سیاست تک میں ’’اتحادی‘‘ درکار نہیں ہوتے۔ انہیں ’’ایجنٹ‘‘ درکار ہوتے ہیں۔ کبھی بھٹو صاحب جنرل ایوب کے ایجنٹ تھے اور وہ جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک وقت آیا کہ جنرل ضیا نے بھٹو کو جھوٹے مقدمے میں پھانسی پر لٹکا دیا۔ میاں نواز شریف بھی کبھی جرنیلوں کے ’’ایجنٹ‘‘ تھے۔ آج شہباز شریف اور آصف زرداری جنرل عاصم منیر کے ’’دوست‘‘ اور ’’اتحادی‘‘ نہیں ان کے ’’ایجنٹ‘‘ ہیں۔ چنانچہ ممکن ہے کہ آنے والے کل میں ان کے تعلقات بھی جرنیلوں سے خراب ہوجائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت کے ساتھ جنرل ضیا الحق میں بھارت کے بھی جرنیلوں پاکستان کو جرنیلوں کی مذاکرات کی سے مذاکرات پاکستان کے جرنیلوں نے جنرل ایوب چاہیے تھا فی صد تھے نے کہا کہ بھارت سے انہوں نے یہ ہے کہ فوج میں تھا کہ کے لیے سے کہا
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین