Juraat:
2026-06-03@07:35:18 GMT

دُکھ ہے ۔۔۔

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

دُکھ ہے ۔۔۔

حمیداللہ بھٹی

پاک افغان سرحد پر جو ہوا وہ دونوں کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اِن جھڑپوں کا ذمہ دار پاکستان نہیں کیونکہ وہ تو مسلسل صدائے احتجاج بلندکررہا ہے کہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر محفوظ اڈے حاصل ہیں اور افغان انتظامیہ دہشت گردوں کی سہولت کارہے ۔اِس بابت چین ،روس اور ایران کوبھی شکایات ہیں مگرطالبان نے شکایات کبھی رفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محض سرزمین کے استعمال ہونے کی تردید اور دہشت گردوں سے روابط کے الزام کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ اِس بارے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے جا چکے ۔
افغان وزیرِ خارجہ ملا امیر متقی بھارتی دورے پر ہیں جوخطے میں دہشت گردی کامنبع ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک کا اعتماد حاصل کرنے کی بجائے بھارت سے راہ و رسم بڑھانا ثابت کرتاہے کہ بھارت اور طالبان انتظامیہ کے اہداف میں خطے کاامن نہیں کچھ اور ہے ۔جتنی جلدی افغانستان فتح ہوتا ہے اس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی۔ یہ ملک درجنوں بار تاراج ہوا روسی قبائل اِسے فتح کرتے رہے۔ تیمور نے بھی فتح کیا ازبک بھی قابض رہے۔ ایرانیوں نے کئی بار یہ ملک محکوم بنایا۔فارسی علاقے یا شمالی اتحادکی وجہ ایرانی قبضے ہیں ۔تاجکوں کابھی یہ ملک غلام رہا۔اشوکِ اعظم نے اِس ملک کا آدھے سے زیاد ہ حصہ اپنی سلطنت میں شامل رکھا ۔اُسی نے بامیان میں بدھ مت کا مجسمہ بنوایا جبکہ بقیہ ملک تاجک اور اُزبک حکومتوں کے تابع رہا ۔یہاں سکھوں نے بھی طویل عرصہ قبضہ کیے رکھااورحکومت کی۔ انگریزبھی قابض رہے ۔ امریکی بھی ماضی میں کئی علاقوں پر قابض رہے اور اپنے حمایتیوں کو پاسپورٹ بھی دیے 2021 میںجب امریکی جانے لگے تومایوس افغان شہری ملک سے نکلنے کے لیے جہازوں کے ساتھ دوڑتے دیکھے گئے۔ افغان شہری اپنا ضمیر اور عزت بیچنے میں بڑے فراخ دل ہیں اور ملک کی اکثریت محکومی میں جینے کی عادی اور طبعاََ اِتنے بے چین ہیں کہ آزادی ملے تو آپس میں ہی لڑنے لگتے ہیں ۔
طالبان کو طاقتور ہونے کا زعم ہے حالانکہ تہذیبی پیش قدمی سے انسان امن پسند ہواہے مگر طالبان آج بھی انگریز ،روس اور امریکہ کو شکست دینے کی جھوٹی باتیں کرتے ہیں ۔دراصل انگریزوںکو ہندوستان کے وہی علاقے پسند رہے جہاں اناج و دیگر ضروریاتِ زندگی وافرتھیں جہاںحکومت کرنا دشوارہوئی وہاں کسی معتمدخاص کو عنانِ اقتدار سونپ کر دولت وصول کرتے یاپھر لڑائیاں لڑ کر باجگزاربنالیتے مگر افغان علاقہ پتھریلا اور دشوار گزار ہونے کی وجہ سے اُن کے لیے غیر اہم تھاکیونکہ دولت تو ایک طرف زرعی جناس بھی محدود تھیں۔ تقسیمِ ہند سے ہندوئوں کو بھارت اورمسلمانوں کو پاکستان مل گیا۔ ہمسائیگی کے ناطے بہتر تو یہ تھاکہ نوزائیدہ مملکت پاکستان سے تعلقات استوار کیے جاتے لیکن افغانوں کی لالچی سرشت تبدیل نہ ہوسکی ۔آج بھی دولت کا حصول ہی اُن کی اولیں ترجیح ہے ۔
سرد جنگ کے ایام میں معدنیات کے وسیع ذخائر کی بدولت افغانستان میں دنیا کی دلچسپی بڑھی ۔روس نے افغانستان کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی کامنصوبہ بنایا اور کابل حکومتیں توڑنے اور بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ضمیر فروش افغانوں نے روس نواز صدر تک منتخب کیے آخرکارروس نے براہ راست حملہ کرکے قبضہ کر لیا اِس قبضے کے خلاف جب کوئی بولنے کی جرات نہیں کررہا تھاتوپاکستان نے فراخ دلی سے اپنے افغان بھائیوں کے لیے نہ صرف سرحدیں کھول دیں بلکہ آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے تعاون کیااور اِس فراخ دلی کے عوض دسمبر 1979 سے لیکرفروری 1989تک کے عشرے میں منشیات اور کلاشنکوف کلچر کا سامنا کیا اور اسی لاکھ مہاجرین کی مہمان نوازی کی روسی افواج نے قبضے کے دوران افغان خواتین کی بے دریغ عصمت دری سے ایک نئی نسل پیداکی ۔
نو گیارہ واقعات کوجواز بناکر امریکہ نے نیٹو افواج کے ساتھ کابل پر چڑھائی کردی اور2002سے لیکر2021تک بمباری سے لاکھوں افغانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ یوں روسی حملے کی وجہ سے آنے والے مہاجرین ا بھی واپس بھی نہیں گئے تھے کہ دوبارہ بڑی تعداد میں اور افغان شہری پاکستان آنے لگے۔ اِس دوران افغان خواتین قابض افواج کے بُرے سلوک سے ملک کے اندراور دنیا بھرکے بازاروں میں رسوا ہوتیں رہیں لیکن پاکستان میں افغان شہریوں کو باعزت زندگی گزارنے کے ساتھ کاروبار اور رشتہ داریاں کرنے کی آزادی رہی۔ چالیس لاکھ سے زائدافغان ابھی تک پاکستان میں ہیں لیکن بے لوث مہمان نوازی کا صلہ یہ ہے کہ بھارتی ایما پرافغان انتظامیہ ٹی ٹی پی،داعش اور بی ایل اے جیسے دہشت گردوں کی سہولت کار ہے جوپاکستان کے دوصوبوں کے شہریوں کی زندگی اجیران بنا رہے اور پاک فوج کوبھی نشانہ بناتے ہیں۔ یہ گروہ بھارت سے پیسے لیکرعلیحدگی پسندوں کو افرادی قوت اور ہتھیار دیتے ہیں ۔افغان انتظامیہ بھی پیسے لیکر دہشت گردوں کی سرپرستی کرتی اور پاکستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے بھارت کو مواقع فراہم کرتی ہے۔
ہر دورمیں افغانوں کاحشر نشر ہوا۔روس اور امریکہ نے افغانوں کو شہر اور دیہات چھوڑ کر جنگلوں اور ویرانوں میں رہنے پر مجبورکیے رکھا جس طرح روسی فواج نے نئی افغان نسل پیدا کی۔ امریکی قیادت میں قابض افواج بھی ایسے مکروہ فعل کی مرتکب رہیں۔ افغان اپنی طاقت کے قصے سناتے ہوئے شایدبیرونی حملہ آوروں اور عالمی طاقتوں کے قبضے بھول جاتے ہیں ۔روس نے ایک عشرہ جبکہ امریکہ نے دوعشرے قیام میں افغانوں کا ڈی این اے ہی بدل دیا ہے۔ یہ عجیب طاقتورلوگ ہیں کہ بیرونی حملہ آور جب چاہتے ہیں افغانستان پر قبضہ کر لیتے ہیں تو کیا بہتر نہیں کہ افغان اپنی طاقت کے قصے سنانے کی بجائے شرمناک ماضی فراموش کردیں ۔ویسے بھی اگر پاکستان بڑے بھائی کا کردار ادا نہ کرتاتو افغانستان شایدآج بھی محکوم ہوتا مگرطالبان یہ احسان تسلیم نہیں کرتے جسے احسان فراموشی اور نمک حرامی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ افغان قیادت ڈھٹائی سے کہتی ہے کہ بھارت سے تعلقات بڑھا نے کی وجہ یہ ہے کہ اُس کاوفد دورے پر آتاہے توبریف کیس میں نوٹ لاتاہے جبکہ پاکستانی وفددورے پر آئے تو بریف کیس میں وعدے اور نصیحتیں ہوتی ہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا یہ طرزِ عمل اسلامی یا اخلاقی لحاظ سے درست ہے؟طالبان خودکو امام مہدی کے سپاہی کہتے ہیں لیکن ہمسایہ اسلامی ملک پر بھارت کو ترجیح دینے اور مسلم اکثریتی علاقے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو جائز کہنے کا مطلب تویہ ہے کہ اِن کا ایمان پیسہ اور امام مودی ہے۔ تہذیبی ارتقا بڑی تبدیلیاں لیکر آیا ہے مگرطالبان کودیکھ کر تو لگتاہے تہذیبی ارتقا انسانی جبلت پر اثرا انداز نہیں ہو سکا کیونکہ وہ آج بھی خیر وشر میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ شاید تخلیقی ذہن سے محروم ہیں، اسی لیے دنیا سے الگ تھلگ ہیں ۔رواں ماہ گیارہ اور بارہ اکتوبر کی شب پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز کارروائی سے انھوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ قابلِ اعتبار نہیں اور پیسے کی ہوس میں بدنامی کی پاتال میں گرنا بھی عزیزہے جس پر ہم جیسے حُسن ظن والوں کو بہت دُکھ ہے۔
٭٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کے لیے یہ ملک کی وجہ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی