حمیداللہ بھٹی
پاک افغان سرحد پر جو ہوا وہ دونوں کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اِن جھڑپوں کا ذمہ دار پاکستان نہیں کیونکہ وہ تو مسلسل صدائے احتجاج بلندکررہا ہے کہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر محفوظ اڈے حاصل ہیں اور افغان انتظامیہ دہشت گردوں کی سہولت کارہے ۔اِس بابت چین ،روس اور ایران کوبھی شکایات ہیں مگرطالبان نے شکایات کبھی رفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محض سرزمین کے استعمال ہونے کی تردید اور دہشت گردوں سے روابط کے الزام کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ اِس بارے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے جا چکے ۔
افغان وزیرِ خارجہ ملا امیر متقی بھارتی دورے پر ہیں جوخطے میں دہشت گردی کامنبع ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک کا اعتماد حاصل کرنے کی بجائے بھارت سے راہ و رسم بڑھانا ثابت کرتاہے کہ بھارت اور طالبان انتظامیہ کے اہداف میں خطے کاامن نہیں کچھ اور ہے ۔جتنی جلدی افغانستان فتح ہوتا ہے اس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی۔ یہ ملک درجنوں بار تاراج ہوا روسی قبائل اِسے فتح کرتے رہے۔ تیمور نے بھی فتح کیا ازبک بھی قابض رہے۔ ایرانیوں نے کئی بار یہ ملک محکوم بنایا۔فارسی علاقے یا شمالی اتحادکی وجہ ایرانی قبضے ہیں ۔تاجکوں کابھی یہ ملک غلام رہا۔اشوکِ اعظم نے اِس ملک کا آدھے سے زیاد ہ حصہ اپنی سلطنت میں شامل رکھا ۔اُسی نے بامیان میں بدھ مت کا مجسمہ بنوایا جبکہ بقیہ ملک تاجک اور اُزبک حکومتوں کے تابع رہا ۔یہاں سکھوں نے بھی طویل عرصہ قبضہ کیے رکھااورحکومت کی۔ انگریزبھی قابض رہے ۔ امریکی بھی ماضی میں کئی علاقوں پر قابض رہے اور اپنے حمایتیوں کو پاسپورٹ بھی دیے 2021 میںجب امریکی جانے لگے تومایوس افغان شہری ملک سے نکلنے کے لیے جہازوں کے ساتھ دوڑتے دیکھے گئے۔ افغان شہری اپنا ضمیر اور عزت بیچنے میں بڑے فراخ دل ہیں اور ملک کی اکثریت محکومی میں جینے کی عادی اور طبعاََ اِتنے بے چین ہیں کہ آزادی ملے تو آپس میں ہی لڑنے لگتے ہیں ۔
طالبان کو طاقتور ہونے کا زعم ہے حالانکہ تہذیبی پیش قدمی سے انسان امن پسند ہواہے مگر طالبان آج بھی انگریز ،روس اور امریکہ کو شکست دینے کی جھوٹی باتیں کرتے ہیں ۔دراصل انگریزوںکو ہندوستان کے وہی علاقے پسند رہے جہاں اناج و دیگر ضروریاتِ زندگی وافرتھیں جہاںحکومت کرنا دشوارہوئی وہاں کسی معتمدخاص کو عنانِ اقتدار سونپ کر دولت وصول کرتے یاپھر لڑائیاں لڑ کر باجگزاربنالیتے مگر افغان علاقہ پتھریلا اور دشوار گزار ہونے کی وجہ سے اُن کے لیے غیر اہم تھاکیونکہ دولت تو ایک طرف زرعی جناس بھی محدود تھیں۔ تقسیمِ ہند سے ہندوئوں کو بھارت اورمسلمانوں کو پاکستان مل گیا۔ ہمسائیگی کے ناطے بہتر تو یہ تھاکہ نوزائیدہ مملکت پاکستان سے تعلقات استوار کیے جاتے لیکن افغانوں کی لالچی سرشت تبدیل نہ ہوسکی ۔آج بھی دولت کا حصول ہی اُن کی اولیں ترجیح ہے ۔
سرد جنگ کے ایام میں معدنیات کے وسیع ذخائر کی بدولت افغانستان میں دنیا کی دلچسپی بڑھی ۔روس نے افغانستان کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی کامنصوبہ بنایا اور کابل حکومتیں توڑنے اور بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ضمیر فروش افغانوں نے روس نواز صدر تک منتخب کیے آخرکارروس نے براہ راست حملہ کرکے قبضہ کر لیا اِس قبضے کے خلاف جب کوئی بولنے کی جرات نہیں کررہا تھاتوپاکستان نے فراخ دلی سے اپنے افغان بھائیوں کے لیے نہ صرف سرحدیں کھول دیں بلکہ آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے تعاون کیااور اِس فراخ دلی کے عوض دسمبر 1979 سے لیکرفروری 1989تک کے عشرے میں منشیات اور کلاشنکوف کلچر کا سامنا کیا اور اسی لاکھ مہاجرین کی مہمان نوازی کی روسی افواج نے قبضے کے دوران افغان خواتین کی بے دریغ عصمت دری سے ایک نئی نسل پیداکی ۔
نو گیارہ واقعات کوجواز بناکر امریکہ نے نیٹو افواج کے ساتھ کابل پر چڑھائی کردی اور2002سے لیکر2021تک بمباری سے لاکھوں افغانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ یوں روسی حملے کی وجہ سے آنے والے مہاجرین ا بھی واپس بھی نہیں گئے تھے کہ دوبارہ بڑی تعداد میں اور افغان شہری پاکستان آنے لگے۔ اِس دوران افغان خواتین قابض افواج کے بُرے سلوک سے ملک کے اندراور دنیا بھرکے بازاروں میں رسوا ہوتیں رہیں لیکن پاکستان میں افغان شہریوں کو باعزت زندگی گزارنے کے ساتھ کاروبار اور رشتہ داریاں کرنے کی آزادی رہی۔ چالیس لاکھ سے زائدافغان ابھی تک پاکستان میں ہیں لیکن بے لوث مہمان نوازی کا صلہ یہ ہے کہ بھارتی ایما پرافغان انتظامیہ ٹی ٹی پی،داعش اور بی ایل اے جیسے دہشت گردوں کی سہولت کار ہے جوپاکستان کے دوصوبوں کے شہریوں کی زندگی اجیران بنا رہے اور پاک فوج کوبھی نشانہ بناتے ہیں۔ یہ گروہ بھارت سے پیسے لیکرعلیحدگی پسندوں کو افرادی قوت اور ہتھیار دیتے ہیں ۔افغان انتظامیہ بھی پیسے لیکر دہشت گردوں کی سرپرستی کرتی اور پاکستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے بھارت کو مواقع فراہم کرتی ہے۔
ہر دورمیں افغانوں کاحشر نشر ہوا۔روس اور امریکہ نے افغانوں کو شہر اور دیہات چھوڑ کر جنگلوں اور ویرانوں میں رہنے پر مجبورکیے رکھا جس طرح روسی فواج نے نئی افغان نسل پیدا کی۔ امریکی قیادت میں قابض افواج بھی ایسے مکروہ فعل کی مرتکب رہیں۔ افغان اپنی طاقت کے قصے سناتے ہوئے شایدبیرونی حملہ آوروں اور عالمی طاقتوں کے قبضے بھول جاتے ہیں ۔روس نے ایک عشرہ جبکہ امریکہ نے دوعشرے قیام میں افغانوں کا ڈی این اے ہی بدل دیا ہے۔ یہ عجیب طاقتورلوگ ہیں کہ بیرونی حملہ آور جب چاہتے ہیں افغانستان پر قبضہ کر لیتے ہیں تو کیا بہتر نہیں کہ افغان اپنی طاقت کے قصے سنانے کی بجائے شرمناک ماضی فراموش کردیں ۔ویسے بھی اگر پاکستان بڑے بھائی کا کردار ادا نہ کرتاتو افغانستان شایدآج بھی محکوم ہوتا مگرطالبان یہ احسان تسلیم نہیں کرتے جسے احسان فراموشی اور نمک حرامی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ افغان قیادت ڈھٹائی سے کہتی ہے کہ بھارت سے تعلقات بڑھا نے کی وجہ یہ ہے کہ اُس کاوفد دورے پر آتاہے توبریف کیس میں نوٹ لاتاہے جبکہ پاکستانی وفددورے پر آئے تو بریف کیس میں وعدے اور نصیحتیں ہوتی ہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا یہ طرزِ عمل اسلامی یا اخلاقی لحاظ سے درست ہے؟طالبان خودکو امام مہدی کے سپاہی کہتے ہیں لیکن ہمسایہ اسلامی ملک پر بھارت کو ترجیح دینے اور مسلم اکثریتی علاقے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو جائز کہنے کا مطلب تویہ ہے کہ اِن کا ایمان پیسہ اور امام مودی ہے۔ تہذیبی ارتقا بڑی تبدیلیاں لیکر آیا ہے مگرطالبان کودیکھ کر تو لگتاہے تہذیبی ارتقا انسانی جبلت پر اثرا انداز نہیں ہو سکا کیونکہ وہ آج بھی خیر وشر میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ شاید تخلیقی ذہن سے محروم ہیں، اسی لیے دنیا سے الگ تھلگ ہیں ۔رواں ماہ گیارہ اور بارہ اکتوبر کی شب پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز کارروائی سے انھوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ قابلِ اعتبار نہیں اور پیسے کی ہوس میں بدنامی کی پاتال میں گرنا بھی عزیزہے جس پر ہم جیسے حُسن ظن والوں کو بہت دُکھ ہے۔
٭٭٭٭
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے لیے یہ ملک کی وجہ
پڑھیں:
طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے
خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول کرنا چیلنج ہے ، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف کے ممالک مل کر کرتے ہیں، طالبان حکام دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں، مہمان ہیں، غیر منطقی ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو انہیں ہمارے حوالے کریں،افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور دہشتگرد قیادت موجود، طالبان سہولت کاری بند کریں، رواں سال ملک میں مجموعی طور پر ایک ہزار 873 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن میں 136 افغان باشندے شامل ہیں، خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول کرنا چیلنج ہے ، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف کے ممالک ملکر کرتے ہیں، طالبان حکام دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں،پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے ، 7 جہازوں کی تباہی، اسلحہ ڈپو، دفاعی نظام ایس 400 کا خاتمہ ان کیلئے ہارر مووی بن چکا ہے ،آپریشن سندور کی شکست پر بار بار جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں،کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا،بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پاکستان کیخلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں،تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ دہشتگردی کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر مزید تفصیلات سامنے آئی ہے جس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 4نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ۔ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ۔ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے ، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے ، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے ۔انہوںنے کہاکہ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتِ حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں بمشکل موثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے ، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے ، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں، اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں یا اسمگلنگ، تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمے داری ہے ؟لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے ؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے ،پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے ، افغانستان سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے ، ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کرسکتے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، پاکستان کے اس مو قف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الخوراج کے بارے میں طالبان رجیم کا دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، طالبان رجیم کا دعویٰ ہے کہ وہ ہجرت کر کے آئے ہیں، ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے ، اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم ان کو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے ، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے ، افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اور حکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا، طالبان رجیم نے اس وقت نان اسٹیٹ ایکٹرز پالے ہوئے ہیں۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز خطے کے مختلف ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہیے ، دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا، افغان طالبان نے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کے وعدہ پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے ، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ، ہمارے لیے اچھے یا برے دہشت گرد میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لیے اچھا دہشت گرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا، ہمیشہ حق باطل پر غالب آتا ہے ، ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتحیاب ہوتا ہے ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے عمل کے تحت 2024 میں 366704 افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے ، 2025 میں 971604 کو افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے ، صرف رواں ماہ یعنی نومبر کے دوران 239574 افراد کو واپس بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری ہے ، انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے ، جس ٹریلر میں7 جہاز گریں، 26 مقامات پر حملہ، ایسـ400 کی بیٹریاں تباہ ہوں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کے لیے ڈراؤنی فلم بن جائیگی،سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم وغصے کو تحلیل کرنے کے لیے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کوئی بھی ملک اگر افغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشت گردوں کے ہاتھ ہی لگے گا، ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں، دہشت گردی پر تمام حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہے کہ اس کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے ، اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا جبکہ کے پی میں اس کی کمی نظر آتی ہے ۔ اس نظام کے تحت ضلعی، ڈویڑنل اور صوبائی سطح پر اسٹیئرنگ، مانیٹرنگ اور ایمپیلیمنٹیشن کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیرقانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے ، اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کی جاتی ہے ، ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے پہلے 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ اسمگلنگ ہوتی تھی۔ یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آچکی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ایران سے اسمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور بی وائی سی کو جاتی ہے ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 ضلعوں کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جاچکا ہے ، بلوچستان کے 27 ضلعے بلوچستان کا 86 فیصد حصہ ہے ، بلوچستان میں صوبائی حکومت، سیکیورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اس طرح کی 140 یومیہ اور 4000 ماہانہ انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جسکے بہت دورس نتائج ہیں،ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا۔