مسلح افواج کے 10 افسروں کی سول سروس میں شمولیت کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
سٹی 42 : مسلح افواج کے 10 افسروں کی سول سروس میں شمولیت کی منظوری دی گئی ہے، فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اس ضمن میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں 5، پولیس سروس میں 3 اور فارن سروس آف پاکستان میں 2 افسران کی سول سروس میں شمولیت کی منظوری دی گئی ہے، ایف پی ایس کے سی نفسیاتی و زبانی امتحان میں تینوں مسلح افواج سے مجموعی طور پر 10 امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں، کامیاب امیدواروں کی مسابقتی امتحان 2024 میں انڈکشن کی گئی ہے، بری فوج سے کامیاب قرار دیئے گئے 7 امیدواروں کی سول سروس میں شمولیت کی گئی ہے۔
چین کے اسٹیلتھ بمبار طیارے کی پہلی پرواز، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
کیپٹن یاسر حمید اور کیپٹن زوہیب ناصر کی فارن سروس، کیپٹن حمزہ طاہر شاہ، کیپٹن امتیاز حسین اور کیپٹن محمد بلال خان وزیر کی پولیس سروس میں، کیپٹن سید عبدالرحمان قاسم اور کیپٹن سید محمد عمر شاہ کی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شمولیت کی منظوری دی گئی ہے، مزید برآں پاک فضائیہ سے فلائٹ لیفٹیننٹ طلحہ حسیب کی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پاک بحریہ سے لیفٹیننٹ محمد ارسلان شکیل کی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور لیفٹیننٹ محمد علی حماد کی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شمولیت کی منظوری دی گئی ہے۔
مسلسل چوبیس گھنٹے بارش؛ تعلیمی ادارے بند، فلائٹ شیڈول برباد، شہر اربن فلڈنگ کی زد میں
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سروس میں شمولیت کی منظوری دی گئی ہے کی سول سروس میں شمولیت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔