سہیل آفریدی کو وفاق کے ساتھ محاز آرائی نہیں کرنی چاہیے: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پشاور (نیوز ڈیسک) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو وفاق کے ساتھ محاز آرائی نہیں کرنی چاہیے۔
دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ہمارا صوبہ مشکل حالات سے گزر رہا ہے، افغانستان کے ساتھ مسئلہ چل رہا ہے، امن کے قیام کے لئے فوج اور پولیس نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ امن معاہدہ خوش آئند ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی، ہم سب کو مل کر صوبے کے امن اور ترقی کے لئے کام کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی کے ساتھ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔