امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایک خفیہ مگر وسیع سرکاری مہم شروع کر دی ہے، جس کا مقصد اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جنہیں ٹرمپ اور اُن کے حامی ”ڈیپ اسٹیٹ“ یا ریاست کے اندر ریاست سمجھتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی “رائٹرز“ کے مطابق، یہ مہم دراصل ایک بین الادارہ جاتی کمیٹی کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جسے ”انٹرایجنسی ویپنائزیشن ورکنگ گروپ“ (Interagency Weaponization Working Group) کہا جاتا ہے۔ اس گروپ میں امریکی خفیہ اداروں، وزارتِ انصاف، دفاع، داخلہ، سی آئی اے، ایف بی آئی، انکم ٹیکس محکمے (IRS)، فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) اور وائٹ ہاؤس سمیت درجنوں اداروں کے افسران شامل ہیں۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ گروپ مئی 2025 سے خفیہ طور پر اجلاس منعقد کر رہا ہے، جس کا مقصد اُن اہلکاروں یا اداروں کی نشاندہی کرنا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ماضی میں حکومتی اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں اٹارنی جنرل اور دیگر وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ’قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کی طاقت کے سیاسی استعمال‘ سے متعلق تمام پرانے معاملات کی تحقیقات کریں۔

اٹارنی جنرل پم بونڈی اور نیشنل انٹیلی جنس کی سربراہ ٹلسی گیبرڈ نے اس حکم کے بعد اپنے اپنے اداروں میں ”ویپنائزیشن یونٹس“ قائم کیے، جن کا مقصد اُن افراد کو بے نقاب کرنا تھا جو ماضی میں حکومت کے اختیارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق اب یہ نیا بین الادارہ جاتی گروپ ان چھان بینوں کو مزید مربوط کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، ایک عہدیدار نے کہا کہ ”یہ گروپ دراصل اُن طاقتوں کے خلاف کام کر رہا ہے جو حکومت کے اندر رہ کر سیاسی فیصلوں کو متاثر کرتی تھیں۔“

ٹرمپ اور اُن کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سابق حکومتوں، خصوصاً اوباما اور بائیڈن ادوار میں، سرکاری اداروں کو ٹرمپ کے خلاف استعمال کیا گیا۔ ان میں 2016 کے الیکشن میں روسی مداخلت کی تحقیقات، ٹرمپ کی دونوں مواخذے کی کارروائیاں اور 6 جنوری 2021 کے ہنگاموں کی عدالتی کارروائیاں شامل ہیں۔

تاہم امریکی میڈیا کے مطابق اس گروپ کا اصل مقصد اُن مخالفین سے بدلہ لینا ہے جنہیں ٹرمپ ”ڈیپ اسٹیٹ“ کا حصہ سمجھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس گروپ کی ملاقاتوں میں سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی، ڈاکٹر انتھونی فاؤچی، سابق فوجی کمانڈرز، اور صدر بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن جیسے نام زیرِ بحث آئے ہیں۔

اگرچہ سرکاری سطح پر کسی فرد کو نشانہ بنانے کی تردید کی جا رہی ہے، مگر رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ گروپ اُن تمام اہلکاروں کے خلاف شواہد جمع کر رہا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ماضی میں ٹرمپ یا اُن کے حامیوں کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

دستاویزات کے مطابق اب تک 39 سرکاری اور سابقہ اہلکار اس ورکنگ گروپ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں فوجی افسران، انٹیلی جنس حکام، وکلاء، اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کھلے عام ٹرمپ کے انتخابی دھاندلی کے بیانیے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گروپ میں شامل بعض افسران وہ ہیں جو پہلے کووِڈ ویکسین کے لازمی حکم کے خلاف تھے، اور کچھ وہ ہیں جو 2020 کے الیکشن میں دھاندلی کے دعوؤں کو درست سمجھتے ہیں۔

سی آئی اے، ایف بی آئی، ڈیفنس اور دیگر اداروں نے فی الحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ وائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے کہا ہے کہ ”یہ سب کچھ نیا نہیں، صدر ٹرمپ صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت اب کبھی عوام کے خلاف استعمال نہ ہو۔“

امریکی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ”ویپنائزیشن ورکنگ گروپ“ کی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدت میں ریاستی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ لیکن ناقدین کے نزدیک یہ اقدام دراصل سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی مہم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کر رہا ہے کے مطابق کے خلاف اس گروپ

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان