Daily Sub News:
2026-07-24@06:26:57 GMT

خامنہ ای نے ٹرمپ کی جوہری مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

خامنہ ای نے ٹرمپ کی جوہری مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی

خامنہ ای نے ٹرمپ کی جوہری مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 21 October, 2025 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

خامنہ ای نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی رد کر دیا کہ امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اور کہا کہ “امریکی صدر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صنعت تباہ کر دی، بہت خوب، خواب دیکھتے رہیے!

ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق خامنہ ای کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے پانچ دور مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ مذاکرات جون میں 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد ختم ہوئے تھے، جس میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

خامنہ ای نے ٹرمپ کی بطور “ڈیل میکر” شہرت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “اگر کوئی معاہدہ دباؤ اور زبردستی کے تحت ہو تو وہ ڈیل نہیں بلکہ غنڈہ گردی ہے۔”

گزشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر واشنگٹن تہران کے ساتھ امن معاہدہ کر لے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ تاہم خامنہ ای نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے جوہری معاملات میں امریکا کی مداخلت “غلط، نامناسب اور جابرانہ” ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن توانائی کے حصول کے لیے ہے جبکہ مغربی طاقتیں تہران پر خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرتی ہیں، جسے ایران سختی سے رد کرتا ہے۔

کشیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون کا معاہدہ باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ریاستی میڈیا کے ذریعے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ تہران پر مسلسل دباؤ کے جواب میں کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کا یہ اقدام عالمی سطح پر جوہری کشیدگی میں اضافے اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ میں جنگ بندی ختم ہونے کے خدشے کے پیش نظر امریکا متحرک ، سفارتی کوششیں تیز غزہ میں جنگ بندی ختم ہونے کے خدشے کے پیش نظر امریکا متحرک ، سفارتی کوششیں تیز جنگ بندی ٹوٹی تو حماس صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی، ٹرمپ کی دھمکی نئی دہلی دنیاکا آلودہ ترین شہر بن گیا، لاہور کی فضا بھی انتہائی مضر صحت قرار افغانستان سے سیز فائر میں وقت کی حد مقرر نہیں، خلاف ورزی نہ ہونے تک معاہدہ برقرار ہے: وزیر دفاع شاہین شاہ آفریدی قومی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان مقرر چھبیسویں آئینی ترمیم کیس، ہم سب حلف کے پابند اور قوم کو جواب دہ ہیں،جسٹس امین الدین خان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: خامنہ ای نے ٹرمپ کی جوہری ٹرمپ کی

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل