روس یوکرین جنگ: یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ امن فارمولہ مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
یورپی یونین کے رہنماؤں نے واضح طور پر یوکرین اور یورپی ممالک کی شمولیت کے بغیر یوکرین میں کسی بھی امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔
پیرس کے ایلیزے پیلس میں یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن کا کوئی بھی منصوبہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب یوکرین اور یورپی ممالک مذاکرات میں شامل ہوں۔
چائنا ڈیلی کے مطابق فرانسیسی صدر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور دیگر یورپی رہنماؤں نے مشترکہ مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ یورپی ممالک اور یوکرین کے بغیر کسی امن منصوبے پر بات بھی نہیں ہو سکتی۔
میکرون نے کہا کہ منجمد روسی اثاثے، سلامتی کی ضمانتیں اور یوکرین کی یورپی یونین میں ممکنہ شمولیت جیسے اہم معاملات صرف یورپی فریقین کے ساتھ ہی طے ہو سکتے ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین نے جنگ کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم مستقبل کے مذاکرات میں علاقائی مسائل سب سے زیادہ پیچیدہ رہیں گے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے برلن میں پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ یوکرین اور یورپ کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ متعلقہ فریقین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔
ڈونلڈ ٹسک نے یوکرین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ اور جرمنی یورپ کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
لیٹویا کے صدر ایڈگرس رنکیوکس نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ممکنہ امن معاہدے پر یورپ کو مذاکرات کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔