صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ایک حصہ کیوں گرایا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے اس کا ایک حصہ منہدم کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حصے کو گرا کر ایک شاندار اور وسیع بال روم (Ballroom) تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف سرکاری تقاریب، عشائیے اور بین الاقوامی مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندرونی حصے میں جاری یہ تعمیراتی کام ٹرمپ کی ذاتی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت گرائے گئے حصے کا ملبہ ہٹایا جا چکا ہے اور نئی تعمیر کا ڈیزائن بھی حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بال روم وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ ہال ہوگا، جہاں سینکڑوں مہمانوں کو بیک وقت مدعو کیا جا سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ انہیں وائٹ ہاؤس کی تاریخی عمارت سے گہری وابستگی ہے اور وہ اس کے مرکزی حصے کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ توسیعی منصوبہ وائٹ ہاؤس کی شان میں اضافہ کرے گا اور اسے مزید دلکش بنائے گا۔
تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جس پیمانے پر یہ تعمیراتی کام کیا جا رہا ہے، اس سے خدشہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی مرکزی عمارت بھی کسی حد تک متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبے کے نقشے میں عمارت کے اہم داخلی حصوں کے قریب توڑ پھوڑ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس کی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟