Jasarat News:
2026-07-24@08:26:28 GMT

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ایک حصہ کیوں گرایا؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے اس کا ایک حصہ منہدم کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حصے کو گرا کر ایک شاندار اور وسیع بال روم (Ballroom) تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف سرکاری تقاریب، عشائیے اور بین الاقوامی مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندرونی حصے میں جاری یہ تعمیراتی کام ٹرمپ کی ذاتی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت گرائے گئے حصے کا ملبہ ہٹایا جا چکا ہے اور نئی تعمیر کا ڈیزائن بھی حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بال روم وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ ہال ہوگا، جہاں سینکڑوں مہمانوں کو بیک وقت مدعو کیا جا سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ انہیں وائٹ ہاؤس کی تاریخی عمارت سے گہری وابستگی ہے اور وہ اس کے مرکزی حصے کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ توسیعی منصوبہ وائٹ ہاؤس کی شان میں اضافہ کرے گا اور اسے مزید دلکش بنائے گا۔

تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جس پیمانے پر یہ تعمیراتی کام کیا جا رہا ہے، اس سے خدشہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی مرکزی عمارت بھی کسی حد تک متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبے کے نقشے میں عمارت کے اہم داخلی حصوں کے قریب توڑ پھوڑ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس کی

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل