Express News:
2026-07-24@03:32:37 GMT

کوئٹہ کے لیے چین سے خریدی گئی 21 بسیں کراچی پہنچ گئیں

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

کوئٹہ:

بلوچستان حکومت کی جانب سے عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے چین سے 81 کروڑ روپے کی لاگت سے خریدی گئی 21 جدید بسیں کراچی بندرگاہ پر پہنچ گئی ہیں۔

بسیں بلوچستان کے مختلف شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے استعمال کی جائیں گی جس سے صوبے کے عوام کو سفر کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ کے مطابق یہ بسیں چین کی ایک معروف کمپنی سے حاصل کی گئی ہیں اور ان کی خریداری کا معاہدہ چند ماہ قبل طے پایا تھا۔ بسیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں، جن میں ایئر کنڈیشنڈ سسٹم، آرام دہ سیٹیں، سیکورٹی کیمرے اور ماحول دوست انجن شامل ہیں۔

کمشنر کوئٹہ کے مطابق ہر بس کی اوسط لاگت تقریباً 3.

85 کروڑ روپے ہے، جو مجموعی طور پر 81 کروڑ روپے بنتی ہے اور یہ خریداری بلوچستان حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کا حصہ ہے جس کا مقصد صوبے کے دور دراز علاقوں کو مرکزی شہروں سے جوڑنا ہے۔

ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینیئر افسر علی درانی نے بتایا کہ بسیں کراچی سے کوئٹہ اور دیگر اضلاع تک منتقل کی جائیں گی جہاں انہیں سرکاری ٹرانسپورٹ سروسز میں شامل کیا جائے گا، یہ بسیں نہ صرف مسافروں کی تعداد میں اضافہ کریں گی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی، خاص طور پر بلوچستان کے دیہی علاقوں میں جہاں ٹرانسپورٹ کی کمی ہے یہ ایک اہم قدم ہے۔

علی درانی نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے مزید بسیں خریدنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے تاکہ صوبے بھر میں عوامی ٹرانسپورٹ کو مزید وسعت دی جا سکے، یہ بسیں چین سے سمندری راستے سے پاکستان پہنچی ہیں اور کسٹم کلیئرنس کے بعد انہیں بلوچستان منتقل کیا جائے گا۔

مقامی تاجروں اور عوامی نمائندوں نے اس اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ بلوچستان کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

ایک مقامی شہری نے کہا کہ صوبے میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بسیں اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دیں گی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے اس موقع پر ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ یہ خریداری وفاقی حکومت کی معاونت سے ممکن ہوئی ہے اور اس سے صوبے کی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بسیں جلد از جلد آپریشنل کی جائیں گی اور ان کی دیکھ بھال کے لیے مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں یہ اقدام بلوچستان کی ٹرانسپورٹ پالیسی کا حصہ ہے جو صوبے کو جدید بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکومت کی کی جانب یہ بسیں کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن