خواتین کے تحفظ کیلئے خصوصی فورس قائم کرنے کی منظوری، بلوچستان کابینہ کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 19واں اجلاس ہوا، جس میں امن و امان، خواتین کے تحفظ، ماحولیاتی اقدامات اور گورننس سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس میں افغان جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ کابینہ نے وطنِ عزیز کے دفاع میں جان قربان کرنے والے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا بھی کی۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں آنے والی ہر حکومت نے اپنی سابقہ روش برقرار رکھی ہے، 1947 سے اب تک افغان حکومت کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی مگر بدلے میں دشمنی اور بداعتمادی ملی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت افغان مہاجرین کے انخلاء کا عمل حتمی ہے اور صوبائی حکومت اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
کابینہ اجلاس میں صوبے میں خواتین کو ہراسگی سے بچانے کے لیے خصوصی فورس کے قیام کی منظوری دی گئی۔ یہ فورس خواتین کو سرکاری و نجی اداروں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرے گی۔
اسی طرح، انسدادِ جنسی جرائم یونٹس کے قیام کی بھی منظوری دی گئی جو جنسی استحصال کے کیسز کا اندراج اور تفتیش کریں گے۔
مزید برآں کابینہ نے دفعہ 144 کے نفاذ کے اختیارات میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت ڈپٹی کمشنر 30 دن، کمشنر 60 دن جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ 90 دن تک دفعہ 144 نافذ کر سکیں گے۔
ماحولیاتی تحفظ کے لیے مینگروف فاریسٹ ایریا میں توسیع کی منظوری دی گئی تاکہ ساحلی علاقوں میں ماحول دوست پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جو بلوچستان سسٹین ایبل فشریز اینڈ ایکو کلچر بل کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
اجلاس میں دی بلوچستان کنٹرول آف نارکوٹکس سسٹینس بل 2025، بلوچستان اوور سیز پاکستانیز کمیشن بل 2025، بلوچستان لینڈ لیز پالیسی 2025 اور نکاح نامہ فارم ٹو میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے یوتھ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے فنڈز کے اجراء اور مائنز اینڈ منرل سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی منظوری دی، جبکہ گوادر پریس کلب کے صحافیوں کے لیے جرنلسٹ کالونی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح، شفاف طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم، پرامن اور بااختیار صوبہ بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
کابینہ نے ان فیصلوں کو بلوچستان کے بہتر مستقبل، عوامی اعتماد اور حکومتی شفافیت کی عکاسی قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی منظوری دی کابینہ نے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔