2017 میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر وڈھ کے قریب میری گاڑی اور ایک دوسری گاڑی میں تصادم ہوا۔ میرے پیر کی ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ گئی، چہرے پر گہرے زخم آئے اس دن نے میری پوری زندگی بدل دی۔ آج بھی لنگڑا کر چلتا ہوں، اللہ کا شکر ہے کہ زندہ ہوں مگر وہ منظر آج تک بھول نہیں پایا۔

یہ الفاظ ہیں آغا ابراہیم کے جو بلوچستان کی ان ہزاروں کہانیوں میں سے ایک ہیں جہاں قومی شاہراہوں پر حادثات نے زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ کوئی اپنے پیارے کھو بیٹھا، کوئی عمر بھر کے لیے زخمی ہو گیا۔

میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر 1122 کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2019 سے ستمبر 2025 کے دوران بلوچستان کی مختلف قومی شاہراہوں پر 77 ہزار 826 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔ ان حادثات میں ایک ہزار 743 افراد جاں بحق اور ایک لاکھ تین ہزار 902 افراد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: پنجگور: رکن بلوچستان اسمبلی کا بھائی مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل، وزیراعلیٰ کا نوٹس

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں حادثات کی شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے، اور ہر گزرتا سال صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ حادثات قومی شاہراہ این-25 (کراچی تا چمن) پر پیش آئے، جہاں 35 ہزار 113 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 900 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ شاہراہ بلوچستان کی مرکزی تجارتی شریان ہے، لیکن خستہ حال یک طرفہ سڑک، تیز رفتاری اور ہیوی ٹریفک نے اسے ڈیڈلی ہائی وے بنا دیا ہے۔

اسی طرح این-50 شاہراہ (کوئٹہ تا ڈیرہ اسماعیل خان) پر 24 ہزار 694 حادثات۔ پیش آئے، جن میں 421 افراد جاں بحق ہوئے۔یہ راستہ تنگ، موڑ دار اور غیر روشن ہے، جس پر رات کے وقت ڈرائیونگ انتہائی خطرناک بن جاتی ہے۔

ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کے مطابق این-85 (سوراب تا پنجگور)، این-70 (لورالائی تا ڈی جی خان) پر بھی حادثات معمول بن چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والا فتنہ الہند کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

تجزیہ نگاروں کے مطابق تیز رفتاری اور خطرناک اوورٹیکنگ، سڑکوں کی خستہ حالی اور ناکافی نشاندہی، غیر تربیت یافتہ یا بغیر لائسنس ڈرائیورز، گاڑیوں کی فٹنس اور روڈ سیفٹی معائنوں کا فقدان، شاہراہوں پر ٹریفک پولیس اور نگرانی کے نظام کی کمی حادثات کہ بڑی وجہ ہے۔

بلوچستان کی شاہراہیں اب بھی ہزاروں مسافروں کے لیے خطرے کی علامت بنی ہوئی ہیں۔ آغا ابراہیم جیسے درجنوں افراد ہر سال اپنی صحت، روزگار یا پیارے کھو دیتے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے، تو یہ خوابوں کی راہیں مزید موت کی شاہراہیں بن جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان کی شاہراہیں غالب نہاد موت کی راہیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان کی شاہراہیں غالب نہاد موت کی راہیں بلوچستان کی کی شاہراہیں کے مطابق

پڑھیں:

کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف