جسٹس کامران خان ملاخیل نے بلوچستان ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
کوئٹہ(نوائے وقت رپورٹ)بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک پروقار اور باوقار تقریب کے دوران جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔یہ تقریب 20 اکتوبر 2025 کو ہائی کورٹ کے کورٹ روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی جہاں جسٹس اقبال احمد کاسی نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان، رجسٹرار عبدالقیوم لہڑی، سینئر جوڈیشل افسران وکلاء برادری کے اراکین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شرکاء نے نئے قائم مقام چیف جسٹس کو عہدہ سنبھالنے پر گرمجوشی سے مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تقریب انتہائی سادگی، وقار اور عدالتی روایات کے مطابق منعقد ہوئی جو عدلیہ کی شان و شوکت کی عکاسی کرتی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔