سرحدی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیں گے، فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
ہندوستانی اسپانسرڈ پراکسیز، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج تشدد کو ہوا دیتی ہیں، ان دہشتگردوں کا پیچھا کرنے اور اس لعنت سے نجات دلانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں،آئی ایس پی آر
بلوچستان پاکستان کا فخر ،انتہائی متحرک اور محب وطن لوگوں سے مالا مال جو اس کی اصل دولت ہیں،دیرپا خوشحالی کیلئے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے ،ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دیرپا خوشحالی کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ملکی سرحدی سالمیت کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز(جی ایچ کیو) میں 17ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات کی۔ اس موقع پرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، جہاں کے عوام نہایت محبِ وطن، باصلاحیت اور باحوصلہ ہیں، جو درحقیقت صوبے کا اصل سرمایہ ہیں۔انہوں نے صوبے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدامات عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے سماجی و معاشی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی بے پناہ معاشی صلاحیت کو صوبے کے عوام کی بہتری کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ فیلڈ مارشل نے سول سوسائٹی کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور ان کی رہنمائی کرنا پائیدار ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔آرمی چیف نے زور دیا کہ بلوچستان میں دیرپا خوشحالی کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہاکہ بھارت کی سرپرستی میں چلنے والی پراکسیز صوبے میں عوام دشمن اور ترقی مخالف ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہیں تاکہ تشدد کو ہوا دی جا سکے۔انہوں نے یقین دلایا کہ تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان دہشتگرد عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور بلوچستان کو اس لعنت سے نجات دلائی جا سکے۔آرمی چیف نے یہ عزم دہر تے ہوئے کہاکہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم ملکی سرحدی سالمیت کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی براہِ راست یا بالواسطہ کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا تاکہ پاکستانی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ کا اختتام سوال و جواب کے ایک کھلے اور تفصیلی سیشن پر ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔