بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسے ایسے کسی فون کال کا علم نہیں جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کے مطابق ان سے اتفاق کیا ہے۔

گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل کی درآمدات ختم کر دے گا، یہ اقدام امریکا کی اُس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت روس پر معاشی دباؤ ڈال کر یوکرین کی جنگ ختم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم جمعرات کو بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس بیان پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی حالیہ گفتگو کی اطلاع نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

بھارتی حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ روسی تیل کے معاملے پر بات چیت ابھی جاری ہے، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ جلد ہی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے فون پر گفتگو کریں گے۔

یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد بھارت روس کا ایک بڑا خریدار بن کر اُبھرا ہے، جس سے ماسکو کو مغربی ممالک کی پابندیوں کے باوجود اپنے تیل و گیس کے شعبے کو سنبھالنے میں مدد ملی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ روسی توانائی کے شعبے کی مدد بند کرے تاکہ روس کو مزید معاشی تنہائی کا سامنا ہو اور جنگ ختم کرنے پر مجبور ہو۔

مزید پڑھیں:

گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت جلد ہی روسی تیل کی خریداری روک دے گا۔

ابتدائی طور پر بھارتی حکومت نے اس دعوے کی براہِ راست تردید نہیں کی تھی بلکہ کہا تھا کہ اس کی پالیسی کا مقصد غیر یقینی توانائی منڈی میں بھارتی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔

تاہم جمعرات کو جاری ہونے والے نئے بیان نے اس بات پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا واقعی واشنگٹن اور دہلی کے درمیان اس حوالے سے کوئی معاہدہ طے پایا ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں:

بھارت کی جانب سے رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل کی درآمدات امریکا اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ یوکرین جنگ پر زیادہ سخت مؤقف اپنا رہی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب روسی صدر پیوٹن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

بھارت روسی توانائی کے سب سے بڑے خریداروں میں چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، یہ خریداری روس کی معیشت کے لیے زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:

مودی حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین کے اتحادی ممالک خود بھی روس سے تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں، لہٰذا بھارت پر تنقید منافقت کے مترادف ہے۔

دوسری جانب، برطانوی حکومت نے حالیہ پابندیوں کے ایک نئے مرحلے میں ایک بڑی بھارتی تیل کمپنی نیارا انرجی لمیٹڈ کو بھی ہدف بنایا ہے، جس نے صرف 2024 میں روس سے تقریباً 10 کروڑ بیرل خام تیل خریدا، جس کی مالیت 5 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم چین ڈونلڈ ٹرمپ روسی توانائی روسی تیل روسی صدر مودی حکومت نریندر مودی ولادیمیر پیوٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم چین ڈونلڈ ٹرمپ روسی توانائی روسی تیل مودی حکومت ولادیمیر پیوٹن کے درمیان روسی تیل تیل کی

پڑھیں:

واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔

کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔

حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔

حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد