UrduPoint:
2026-07-24@04:37:23 GMT

شامی صدر کا دورہ ماسکو، پوٹن سے کیا بات چیت ہوئی؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

شامی صدر کا دورہ ماسکو، پوٹن سے کیا بات چیت ہوئی؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اکتوبر 2025ء) شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے بدھ کے روز ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ روس کے ساتھ شام کے تعلقات کو "نئی سمت" دینا چاہتے ہیں۔

گزشتہ برس کریملن کے اہم اتحادی بشار الاسد کی معزولی کے بعد سے شامی صدر کی اپنے روسی ہم منصب سے یہ پہلی ملاقات تھی، جہاں پوٹن نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

شام میں برسوں کی خونریز خانہ جنگی کے دوران احمد الشرع اور پوٹن مخالف فریقوں کے حامی تھے، جس میں پوٹن نے بشار الاسد کے کلیدی حامی ہونے کی حیثیت سے ان کے لیے اپنی زبردست فوجی طاقت کا بھی استعمال کیا۔

دوسری جانب احمد الشرع کے مسلح اسلام پسند گروپ نے باغی حملوں کی قیادت کی، جس نے بالآخر اسد کو اقتدار سے ہٹانے پر مجبور کر دیا۔

(جاری ہے)

تاہم بدھ کے روز روسی اور شامی رہنما ماضی کی دشمنی پر عملیت پسندی کو ترجیح دیتے ہوئے پہلی بار ایک ساتھ بیٹھے اور انہوں نے بات چیت کی۔ کیا بات چیت ہوئی؟

شامی صدر کے دورے سے قبل ملک کے سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ان کے اس دورے کا مقصد "روس کے ساتھ تعلقات کو نئی شکل دینا" اور سیاسی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانا ہے۔

کیمرے کے سامنے دونوں رہنماؤں نے پرجوش تبادلہ خیال کا اشارہ دیا، تاہم بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی بات چیت کے حوالے سے یہ توقع ہے کہ انہوں نے بشار الاسد کی حوالگی کے لیے ماسکو پر دباؤ ڈالا ہو گا، جو اپنی معزولی کے بعد وہاں سے فرار ہو کر روس پہنچے تھے اور کریملن نے انہیں پناہ دے رکھی ہے۔

ایک شامی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: "شرع روسی صدر سے ان تمام افراد کی حوالگی کی بات کریں گے، جنہوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور اب وہ روس میں ہیں، خاص طور پر بشار الاسد کی حوالگی ۔

"

تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ روس اس سے اتفاق نہیں کرے گا۔ ان کے دورے سے قبل پیر کے روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ روس نے اسد کو سیاسی پناہ دی ہے، کیونکہ انہیں اور ان کے خاندان کو "جسمانی طور پر خاتمے کے خطرے کا سامنا" تھا۔

شام میں روس کے فوجی اڈے

دونوں رہنماؤں کے درمیان شام میں روس کے اہم فوجی اڈوں - طرطوس میں بحری اڈے اور حمیم میں فضائی اڈے کی حیثیت پر بھی بات چیت کی توقع تھی، جن کا مستقبل نئی حکومت کے بعد سے غیر یقینی ہے۔

البتہ شام کے صدر نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ روس کو شام میں اپنے فوجی اڈوں تک رسائی کی اجازت جاری رکھ سکتے ہیں۔

ملاقات کے آغاز میں الشرع نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو تسلیم کیا، تاہم کہا کہ وہ ان رشتوں کو دوبارہ ترتیب دینا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ دمشق کو عالمی سطح پر تنہائی سے باہر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شرع نے پوٹن سے کہا کہ "ہم ان تعلقات کی نوعیت کو ایک نئے انداز میں بحال کرنے اور از سر نو متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ شام کی آزادی، خودمختار شام، اور اس کے علاقائی اتحاد اور سالمیت اور اس کی سکیورٹی کا استحکام حاصل ہو سکے۔"

پوٹن نے اس موقع پر کہا، "گزشتہ دہائیوں کے دوران، ہمارے ممالک نے خاص طرح کے تعلقات استوار کیے ہیں۔

"

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بات چیت کے ایجنڈے میں "کچھ دلچسپ اور مفید کام" شامل ہیں اور روس "ان کی تکمیل کے لیے سب کچھ کرنے" کے لیے تیار بھی ہے۔

شرع نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شام تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرے، تاہم "خاص طور پر روس کے ساتھ"۔

شام میں روس کے مفادات

روس شام کے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع طرطوس پر اپنی بحری بندرگاہ اور حمیم فوجی اڈے تک رسائی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

شرع نے اس کی اجازت دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام اپنے دوطرفہ تعلقات کی "عظیم تاریخ میں طے پانے والے تمام معاہدوں کا احترام کرے گا۔"

اس کے بدلے میں وہ شام میں اپنی طاقت کو مستحکم کرنے، اس کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور روسی توانائی اور سرمایہ کاری تک رسائی کے ساتھ کمزور معیشت کو بچانے میں ماسکو کی مدد چاہتے ہیں۔

روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان ڈھائی گھنٹے سے زائد بات چیت جاری رہی اور ماسکو نے کہا کہ وہ شام کے خام تیل کی پیداوار میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

نائب وزیر اعظم الیکسزانڈر نوواک نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سے بات چیت میں کہا کہ "روسی کمپنیاں ایک طویل عرصے سے شام کے آئل فیلڈز پر کام کر رہی ہیں۔

" انہوں نے مزید کہا کہ کچھ نئے شعبے بھی ہیں جہاں ماسکو "شرکت کے لیے تیار" ہے۔

نوواک نے کہا کہ "ہماری کمپنیاں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور توانائی کے نظام کی بحالی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔"

روسی وزراء کا کہنا ہے کہ وہ شام کو کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پہنچانے نیز تباہ شدہ بجلی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت میں مدد کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ماضی کی تلخ یادوں کے سبب مسکراہٹوں کے درمیان تناؤ بھی برقرار ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے تیار بشار الاسد چاہتے ہیں کہا کہ وہ انہوں نے بات چیت کے ساتھ شام کے کے بعد کے روز روس کے

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن