پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ آئین کی خلاف ورزی ہے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں آٹے اور گندم کی آزادانہ ترسیل کے لیے حکومتِ پنجاب کو خط لکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے اور گندم کی ترسیل روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور سیاسی اختلافات کی آڑ میں پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق سلب کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کا نمائندہ ہوں، عمران خان سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی کا چیف جسٹس کو خط
بدھ کے روز وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ میں محکمہ خوراک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور عوام کو سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیرِ اعلیٰ نے صوبے بھر میں تمام گوداموں کی فوری رجسٹریشن کے احکامات بھی جاری کیے۔
اجلاس میں صوبے میں گندم اور چینی کے ذخائر اور نرخوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں گندم اور آٹے کی سالانہ کھپت تقریباً 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس میں سے 15 لاکھ میٹرک ٹن مقامی پیداوار ہے، جبکہ بقیہ ضرورت پنجاب اور دیگر صوبوں سے پوری کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو کابینہ کی تشکیل کیسے ہوگی؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
اس وقت صوبے کے گوداموں میں 2 لاکھ 73 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ ہے۔
چینی کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے کی سالانہ ضرورت 10 لاکھ ٹن ہے، جس میں سے 30 فیصد گھریلو اور 70 فیصد کمرشل مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس وقت صوبے میں 4 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آٹا پنجاب خط سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ٹا سہیل ا فریدی وزیراعلی خیبرپختونخوا خیبر پختونخوا گندم اور میٹرک ٹن کے لیے آٹے کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔